سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 444

صلى الله سيرة ة النبي علي 429 جلد 7 میں اُس کی جگہ تخت حکومت پر متمکن ہوں ۔ تم تمام افسروں سے میری اطاعت کا اقرار لو اور یہ بھی یا درکھو کہ میرے باپ نے عرب کے ایک نبی کی گرفتاری کا جو حکم بھیجا تھا نے عرب کے ایک بھی کی برفباری کا اُس کو میں منسوخ کرتا ہوں کیونکہ وہ نہایت ظالمانہ حکم تھا۔ گورنر یمن اس خط کو پڑھ کر اس قدر متاثر ہوا کہ وہ اور اُس کے کئی ساتھی اُسی وقت اسلام میں داخل ہو گئے ۔ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام میں داخل ہونے کی اطلاع بھجوا دی 17۔ اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید اور اُس کی نصرت آپ کے شاملِ حال رہی ۔ دشمن نے آپ کو قتل کرنے کے لئے کئی منصوبے کئے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر دفعہ اس کو اپنے منصوبوں میں نا کام رکھا۔ یہود کی متواتر ناکامی مدینہ منورہ میں اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہود تھے جو مخالفت کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ ایک دفعہ انہی کے ایک قبیلہ بنو نضیر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض امور پر گفتگو کرنے کے لئے بلوایا۔ لیکن در پردہ سازش کی کہ ایک شخص چپکے سے چھت پر چڑھ کر ایک بڑا وزنی پتھر آپ پر گرا دے جس سے آپ ہلاک ہو جائیں اور بعد میں یہ مشہور کر دیا جائے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ ہو گیا ہے ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اس کی خبر دے دی اور آپ وہاں سے اٹھ کر واپس آ گئے 18 ۔ اسی طرح غزوہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملا دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا لقمہ ہی اٹھایا تھا کہ آپ کو اس کا علم ہو گیا کہ کھانے میں زہر ملایا گیا ہے اور آپ اسے چھوڑ کر کھڑے ہو گئے 19۔ غرض اس دربار میں خدائی گورنر جنرل کے متعلق جو کچھ کہا گیا تھا تاریخی واقعات اس بات پر گواہ ہیں کہ وہ وعدہ بڑی شان کے ساتھ پوار ہوا۔