سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 443

سيرة ة النبي علي صلى الله 428 جلد 7 کو حکم بھیجوایا ہے کہ آپ کو گرفتار کر کے اُس کی خدمت میں حاضر کیا جائے اور ہم اس غرض کے لئے یہاں آئے ہیں آپ ہمارے ساتھ چلیں ورنہ کسری کو زیادہ غصہ آیا تو وہ آپ کو بھی ہلاک کر دے گا اور آپ کی قوم اور ملک کو بھی برباد کر دے گا ۔ شاہ ایران کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم آج رات ٹھہر وکل میں تمہیں اس کا جواب دوں گا ۔ رات کو آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بتایا گیا کہ کسری کی اس گستاخی کی سزا میں آج رات ہم نے اس کے بیٹے کو اس پر مسلط کر دیا ہے اور اُس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا ہے۔ جب صبح ہوئی اور گورنر یمن کے ایلچی دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا جاؤ اور اپنے گورنر سے جا کر کہہ دو کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار دیا ہے ۔ جب گورنر گورنر یمن کا استعجاب فحص واللہ میں ویرا ریمن کو یہ اطلاع پہنچی تو اس نے کہا اگر یہ شخص ص واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ایسا سے ہی ہوا ہو گا لیکن اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو پھر کسری اسے بھی تباہ کر دے گا اور اس کے ملک کو بھی برباد کر دے گا بہر حال اُس نے حیرت اور استعجاب کے ساتھ اس خبر کو سنا اور اُس نے ایران سے آنے والی اطلاعات کا انتظار کرنا شروع کیا۔ گورنر یمن کا اقرار کہ مدینہ تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ یمن کی بندرگاہ پر ایران کا ایک جہازلنگر انداز ہوا اور اس میں ایک کے نبی نے سچ کہا تھا شاہی ایلچی نے گورنر یمن کو بادشاہ کا ایک خط دیا۔ اُس پر چونکہ ایک نئے بادشاہ کی مہر تھی اس لئے خط کو دیکھتے ہی گورنر یمن کہہ اٹھا کہ مدینہ کے بجائے نے مدینہ کے نبی نے سچ کہا تھا۔ پھر اُس نے خط کھولا تو اُس میں کسری کے بیٹے ( شیرویہ ) نے لکھا ہوا تھا کہ میں نے اپنے باپ کو اس کے مظالم کی وجہ سے قتل کر دیا ہے اور اب