سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 442
سيرة النبي علي صلى الله 427 جلد 7 آپ کو یقین تھا میرا خدا میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے خود دشمن کے حملہ سے بچائے گا۔ ایک حیرت انگیز واقعہ پھر اسی جنگ کا ایک او ز واقعہ پھر اسی جنگ کا ایک اور حیرت انگیز واقعہ یہ ہے کہ مکہ کا ایک شخص جس کا نام شیبہ تھا اس جنگ میں صرف اس نیت اور ارادہ کے ساتھ شامل ہوا کہ موقع ملنے پر میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا ۔ جب لڑائی تیز ہوئی تو وہ خود کہتا ہے کہ میں نے تلوار سونت لی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادہ سے میں نے آپ کے قریب ہونا شروع کیا ۔ اُس وقت مجھے یوں معلوم ہوا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ اٹھ رہا ہے جو قریب ہے کہ مجھے جلا کر بھسم کر دے مگر پھر بھی میں آگے بڑھتا چلا گیا اُس وقت اچانک مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ شیبہ! میرے پاس آؤ۔ جب میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور فرمایا اے خدا ! شیبہ کو شیطانی خیالات سے نجات دے۔ شیبہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تھا کہ یکدم میری تمام دشمنی دور ہو گئی اور میرا دل آپ کی محبت اور پیار کے جذبات سے اس قدر لبریز ہو گیا کہ اُس وقت میرے دل میں سوائے اس کے اور کوئی خواہش نہ رہی کہ میں اپنی جان آپ کے لئے قربان کر دوں 16۔ شاہ ایران کا محمد رسول اللہ صلی اللہ پھر کسری شاہ ایران جو آدھی دنیا کا مالک تھا اُس نے یہود کے اشتعال علیہ وسلم کی گرفتاری کا حکم دینا دلانے پر اپنے گورنر یمن کولکھا کہ عرب کے اس مدعی نبوت کو گرفتار کر کے میرے پاس بھجوا دیا جائے یہ شخص اپنے دعووں میں بہت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گورنر یمن نے اس حکم کے ملتے ہی ایک فوجی افسر کو اس ڈیوٹی پر مقرر کیا اور وہ ایک سپاہی کو اپنے ساتھ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لے کر کریم اللہ وسلم گرفتاری کے لئے مدینہ منورہ میں پہنچا اور اُس نے آپ سے کہا کہ کسری نے گورنر یمن