سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 441
سيرة النبي علي صلى الله 426 جلد 7 بھی وہ ہزاروں کا لشکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور کیوں ایسا نہ ہوتا جبکہ اس گورنر جنرل کے متعلق در بار خاص میں یہ اعلان کر دیا نہ ہوتا کے دربار میں یہ اس گیا تھا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا ۔ جنگ حنین میں محمد رسول اللہ ﷺ اسی طرح حسنین کی جنگ میں جب صلى الله صرف بارہ آدمی رسول کریم صلی اللہ کا دشمن کی طرف بڑھتے چلے جانا علیہ وسلم کے ارد گرد رہ گئے تھے اور دشمن کے چار ہزار تیر انداز تیروں کی بارش برسا رہے تھے بعض صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہا اور کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! اس وقت آگے بڑھنا ہلاکت کے منہ میں جانا ہے مگر آپ نے بڑے جوش سے فرمایا میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا اور خود دشمن کی طرف یہ کہتے ہوئے آپ نے بڑھنا چھے نہیں ہٹ سکتا اور خود دشمن کی طرف سے کہتے شروع کر دیا کہ :۔ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ 15 میں خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہوں اُس کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کر رہا لیکن میری اس وقت کی کیفیت کو دیکھ کر تم یہ خیال نہ کر لینا کہ میرے اندر کوئی خدائی طاقت پائی جاتی ہے میں ایک انسان ہوں اور عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔ غرض اُن نازک گھڑیوں میں بھی جب اسلام کے جانباز سپاہی جو سارے عرب کو شکست دے چکے تھے بارہ ہزار کی تعداد میں ہوتے ہوئے ایک غیر متوقع حملہ کی تاب نہ لا کر اپنے پائے ثبات میں جنبش محسوس کر رہے تھے اور اُن کی سواریاں میدانِ جنگ سے بھاگ رہی تھیں ۔ جب اور سے رہی ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد صرف چند آدمی رہ گئے تھے، جب ہر طرف سے دشمن بارش کی طرح تیر برسا رہے تھے آپ آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے کیونکہ