سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 440
سيرة النبي علي صلى الله 425 جلد 7 الہی تصرف کے ماتحت دشمن اسی طرح غزوہ غطفان سے واپسی کے موقع پر جبکہ آپ ایک درخت کے نیچے سورہے تھے کے ہاتھ سے تلوار گر جانا ایک دشمن آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے آپ کے پاس جا پہنچا اور اُس نے آپ کی ہی تلوار سونت کر آپ کو جگایا اور پوچھا کہ اب آپ کو کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے لیٹے لیٹے نہایت اطمینان کے ساتھ فرمایا کہ الله - ان الفاظ کا اُس پر ایسا ہیبت ناک اثر ہوا کہ اُس کے ہاتھ کا نپ گئے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً وہ تلوار اپنے ہاتھ میں پکڑی اور اُس سے پوچھا کہ بتا اب تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اُس نے کہا آپ ہی رحم کریں تو کریں ورنہ میری نجات کا اور کوئی ذریعہ نہیں 13۔ جنگِ اُحد میں خدائی تصرف بمعنی نبی کی عالمی ایک وقت بعض صحابہ کی غلطی کی وجہ سے اسلامی لشکر تتر بتر ہو گیا اور آپ کے ارد گرد صرف چند صحابہ رہ گئے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آپ اکیلے نرغہ اعداء میں گھر گئے ۔ ایسے خطرناک موقع پر اگر خدا کی حفاظت آپ کے شامل حال نہ ہوتی تو دشمن کے لئے آپ کو جانی نقصان پہنچانا کوئی بڑی بات نہ کے تھی۔ ہزاروں مسلح سپاہیوں کے سامنے کسی ایک شخص کی کیا حیثیت ہوتی ہے مگر ان نازک گھڑیوں میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے سامنے میدان جنگ میں ڈٹے رہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی وہاں سے ہٹ جانے یا خود حفاظتی کے لئے کسی پتھر کے پیچھے چھپ جانے کا خیال بھی آپ کے دل میں پیدا نہیں ہوا۔ دشمن آگے بڑھا اور اُس نے آپ پر شدید حملہ کر دیا یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک بھی شہید ہو گئے اور آپ بیہوش ہو کر گڑھے میں گر گئے 14 ۔ دشمن نے سمجھا کہ وہ آپ کو مارنے میں کامیاب ہو گیا ہے مگر جب جنگ کے بادل پھٹے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ میں سورج کی طرح دمکتے دیکھا اور یہ خبر ان پر بجلی بن کر گری کہ آج