سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 439

لله صلى الله سيرة ابي عليه 424 جلد 7 پکڑنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اطمینان سے فرماتے ہیں کہ اے ابوبکر ! گھبراتے کیوں ہو خدا ہمارے ساتھ ہے 11۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ ہمیں پکڑنے میں کامیاب ہوسکیں ۔ چنانچہ مکہ کے صنادید جس طرح رات کی تاریکی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنے میں ناکام و نامراد رہے ہیں اسی طرح وہ دن کی روشنی میں بھی آپ کی گرفتاری میں کامیاب نہ ہو سکے اور خدا نے بتا دیا کہ میں رات اور دن اس انسان کے ساتھ ہوں ۔ ممکن ہے اُن مکہ کے نوجوانوں میں بعض یہ خیال کرتے ہوں کہ چونکہ رات تھی اس لئے محمد رسول اللہ علی نکلنے میں کامیاب ہو گئے خدا اُن کو دن کے وقت غار ثور کے منہ پر لایا اور پھر ان کی آنکھوں میں نابینائی پیدا کر کے بتا دیا کہ اس کا اصل باعث یہ نہیں کہ محمد رسول اللہ رات کی تاریکی میں نکل آئے تھے بلکہ اس کا اصل باعث یہ ہے کہ میں اس کا محافظ ہوں ورنہ دن کی روشنی میں اپنے کھوجیوں کی نشان دہی کے باوجود تم اسے پکڑنے میں کیوں کا میاب نہ ہو سکے ۔ صلى الله علوسه سراقہ کا تعاقب پھر جب آپ مدینہ جا رہے تھے ایک دشمن آپ کے سر پر پہنچ سر پر ایام البی تصرف میرے ماتحت اس کے گیا مگر الہی تصرف کے ماتحت اُس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔ وہ پھر آگے بڑھا تو دوبارہ اُس کے گھوڑے نے ٹھو کر کھائی اور وہ پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ اس پر وہ گھبرا اٹھا اور اُس نے سمجھا کہ یہ بلا وجہ نہیں ہو سکتا چنانچہ یا تو وہ آپ کی گرفتاری کے ارادہ سے باہر نکلا تھا یا عجز اور انکسار کے ساتھ وہ آپ سے معافی کا طالب ہوا اور اُس نے کہا کہ آپ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایک دن ضرور غالب آ کر رہیں گے 12 ۔ اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح قدم قدم پر خدا تعالیٰ نے آپ کی معجزانہ رنگ میں حفاظت فرمائی اور دشمن کو اپنے ناپاک عزائم میں نا کام رکھا۔