سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 438

سيرة النبي علي الله 423 جلد 7 آپ کے مکان کے ارد گرد گھیرا ڈال لیں اور جب آپ باہر تشریف لائیں تو سب مل کر آپ کو قتل کریں تا کہ یہ خون قریش کے متفرق قبائل پر تقسیم ہو جائے اور بنو ہاشم انتقام لینے کی جرات نہ کر سکیں ۔ ادھر انہوں نے یہ فیصلہ کیا اور اُدھر اُسی خدا نے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہوا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے اس بدارادہ کی اطلاع دے دی اور آپ کو مکہ سے ہجرت کا حکم دے دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے گھر سے ایسی حالت میں نکلتے ہیں جب قریش کے مسلح نوجوان آپ کے قتل کے ارادہ سے آپ کے مکان کے اردگرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں مگر آپ کے دل میں کوئی گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی ، آپ کے بدن میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا ، آپ کے جسم پر کپکپی طاری نہیں ہوتی ، آپ کے حواس پراگندہ نہیں ہوتے ، آپ بڑے اطمینان کے ساتھ اُن سفاک اور خونخوار بھیڑیوں کے درمیان سے خراماں خراماں نکل جاتے ہیں اور کوئی آنکھ آپ کو بد ارادہ سے نہیں دیکھ سکتی، کوئی ہاتھ آپ پر وار کرنے کے لئے نہیں اٹھ سکتا ، کوئی تلوار اپنی میان سے باہر نہیں آسکتی ، زمین و آسمان کے خدا نے اُن کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ، اُن کے ہاتھوں کو شل کر دیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا کیونکہ خدا نے یہ فرمایا تھا کہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ - غار ثور تک پہنچ کر بھی دشمن رسول کریم جب دشمن نے دیکھا کہ اس کا یہ عروسه تیر بھی خالی چلا گیا تو اپنی ندامت کی گرفتاری میں کامیاب نہ ہو سکا اور شرمندگی مٹانے کے لئے اُس نے مکہ کے ہوشیار اور فنکا رکھوجیوں کی مدد سے آپ کے پاؤں کے نشانات دیکھتے ہوئے غار ثور تک آپ کا تعاقب کیا اور دشمن اس قدر قریب پہنچ گیا کہ حضرت ابو بکر جو اس ہجرت میں آپ کے ساتھ شامل تھے گھبرا اٹھے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! دشمن اس قدر قریب پہنچ چکا ہے کہ اگر وہ ذرا آگے بڑھ کر غار کے اندر جھانکے تو ہمیں