سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 437
سيرة النبي علي صلى الله 422 جلد 7 دیتے ہیں وہ لوگ خوش ہوں گے کہ آج عمر اس جھگڑے کو ختم کر کے ہی واپس آئے گا۔ عمر اپنی جگہ خوش تھے اور گھر سے تلوار سونت کر نکلتے وقت کہہ رہے ہوں گے کہ میرے جیسا بہادر بھلا فیصلہ کئے بغیر لوٹ سکتا ہے؟ غرض حضرت عمرؓ اپنی جگہ خوش تھے اور مکہ والے اپنی جگہ پر خوش تھے اس بات پر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ضرور قتل ہو جائیں گے مگر خدا تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا اُن کی نادانی پر ہنس رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا ہم نے تجھ سے یہ نہیں کہا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ و خدا تعالیٰ تجھے خودلوگوں کے حملہ سے بچائے گا چنانچہ اُس نے حضرت عمررؓ کو اس طرح پکڑا کہ کوئی انسان اس طرح پکڑ نہیں سکتا ، انسان کی گرفت زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتی تھی کہ کوئی مسلمان حضرت عمرؓ کے مقابلہ میں کھڑا ہو جاتا اور اُن کو مار دیتا۔ انسان کی گرفت زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتی تھی کہ حضرت عمرؓ کی بہن یا ان کا بہنوئی اور ان کا حبشی غلام انہیں راستہ میں پکڑ لیتے اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ جانے دیتے ۔ انسان کی گرفت یہ ہو سکتی تھی کہ حضرت حمزہ یا کوئی اور صحابی حضرت عمرؓ کے مقابلہ پر کھڑے ہو جاتے اور انہیں قتل کر دیتے مگر خدا تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کو اس طرح پکڑا کہ وہی عمر جو آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلا تھا آپ کے پاس پہنچ کر خود قتل ہو گیا ۔ جسم کی موت بھلا کیا حقیقت رکھتی ہے اصل موت تو وہ ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی کی غلامی میں داخل ہو جاتا ہے ۔ حضرت عمرؓ گئے تو اس نیت کے ساتھ تھے کہ وہ آپ کو مار دیں گے لیکن اسی عمر کو خدا نے ایسا مارا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہ فوت ہو گئے ہیں تو میں اُس کی گردن کاٹ دوں گا 10 ۔ واقعہ ہجرت پھر واقعہ ہجرت پر غور کرو اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی معجزانہ رنگ میں حفاظت فرمائی ۔ مکہ کے صنادید آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ کرتے ہیں کہ مختلف قبائل کے مسلح نوجوان رات کو