سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 436

لذ سيرة ابي عليه 421 جلد 7 حضرت عمر کا رسول کریم صلی اللہ حضرت عمر نے دروازے پر پہنچ کر دستک دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم علیہ و علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہونا اُس وقت صحابہ کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے تھے۔ صحابہؓ نے جب دروازے کی دراڑ میں سے دیکھا کہ عمربنگی تلوار لئے دروازے میں کھڑے ہیں تو انہوں نے سمجھا آج عمر کے ارادے نیک نہیں ہیں اس لئے انہوں نے دروازہ کھولنے میں تامل کیا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دروازہ کھول دو۔ حضرت حمزہ جو ابھی نئے ایمان لائے تھے جوش کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے دروازہ کھول دو اگر تو عمر کسی نیک ارادہ کے ساتھ آیا ہے تو بہتر ور نہ کیا عمر کو تلوار چلانی آتی ہے ہمیں تلوار چلانی نہیں آتی ۔ صحابہ نے دروازہ کھولا اور حضرت عمرؓ اسی طرح ننگی تلوار لئے اندر داخل ہوئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرمایا عمر اتم کس ارادے سے آئے ہو؟ حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! میں تو آپ کے خادموں میں داخل ہونے کے لئے حاضر ہوا ہوں ۔ نعرہ ہائے تکبیر یہ سن کر آپ نے خوشی کے جوش میں اللہ اکبر کہا اور ساتھ ہی صحابہؓ نے بڑے زور کے ساتھ اللہ اکبر کا نعرہ لگایا یہاں تک کہ مکہ کی پہاڑیاں بھی گونج اٹھیں 8۔ خدائی حفاظت کا غیر معمولی نشان اب دیکھو عمر تو اس ارادہ کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے تھے کہ آج میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مار کر ہی واپس لوٹوں گا اُس وقت جبکہ عمر اپنی تلوار سونت کر گھر سے نکلے ہوں گے مکہ والے کتنے خوش ہوں گے کہ آج عمر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کئے بغیر واپس نہ آئے گا ۔ مکہ کے لوگ بیتابی کے ساتھ انتظار کر رہے ہوں گے کہ کب انہیں خوشخبری ملتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ وہ لوگ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر حضرت عمرؓ کی راہ تک رہے ہوں گے کہ کب وہ پہنچ کر اپنی کامیابی کی اطلاع ہور پہنچ کرانی کا مالی کی اطلاع