سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 435
سيرة النبي علي صلى الله 420 جلد 7 وہ عمر نہیں رہا تھا جو مسلمانوں کو ان کے اسلام کی وجہ سے دکھ دیا کرتا تھا ، اب عمر وہ عمر نہیں رہا تھا جو اپنی لونڈی کو اسلام لانے کی وجہ سے ہمیشہ زدوکوب کیا کرتا تھا، رہا اب عمر وہ عمر نہیں رہا تھا جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ عہد کر کے نکلا تھا کہ آج میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے ہی واپس لوٹوں گا اب عمر اپنی اس اصل حالت پر آچکا تھا جو اُس کے لئے ازل سے مقدر تھی ، اب عمر اس رنگ میں رنگین ہو چکا تھا جس میں خدا تعالیٰ اُسے رنگنا چاہتا تھا ، اب عمر کی سنگدلی کی جگہ ایمان کامل نے لے لی تھی۔ حضرت عمرؓ نے جب یہ آیت پڑھی إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى - إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةً أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى 7 ۔ تو وہ بے اختیار ہو کر بولے یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے ۔ یہ سن کر حضرت خباب جو ان سے ڈر کر چھپے بیٹھے تھے باہر نکل آئے ۔ حضرت عمر کی دار ارقم کو روانگی حضرت عمرؓ نے جنہیں اب ایمان نے بیقرار کر دیا تھا بیتابی کے ساتھ خباب سے پوچھا مجھے جلد بتاؤ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں میں اُن سے ملنا چاہتا ہوں۔ خباب نے بتا دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں جگہ ہیں مگر چونکہ حضرت عمرؓ نے ابھی تک اپنی تلوار اسی طرح کھینچ رکھی تھی جس سے یہ خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ ان کے ارادے نیک نہیں اس لئے ان کی بہن اس خیال سے کہ خدا نخواستہ ان کی نیت خراب ہی نہ ہو آگے بڑھی اور ان کے گلے میں ہاتھ ڈال کر کہنے لگی خدا کی قسم ! میں تمہیں ہرگز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھ سے اقرار نہ کرو کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دکھ نہیں پہنچاؤ گے۔ حضرت عمرؓ نے کہا نہیں نہیں بہن ! ایسا نہیں ہو سکتا مجھ پر اسلام کا گہرا اثر ہو چکا ہے۔ یہ سن کر بہن نے انہیں چھوڑ دیا اور حضرت عمرؓ دارِ ارقم کی طرف روانہ ہو گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں مقیم تھے ۔