سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 429

سيرة ة النبي علي صلى الله 414 جلد 7 جو مسلمان ہیں ان کو خوب مارو، ان پر خوب سختی کرو، انہیں خوب ذلیل کرواسی طرح جو لوگ تم سے اختلاف عقیدہ رکھتے ہیں تم بھی ان سے یہی سلوک کرنے لگ جاؤ۔ خدا تعالیٰ نے سمجھایا کہ مسلمانوں کے دماغ بھی کبھی خراب ہو سکتے ہیں اور ایسا ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی غیر مسلموں پر سختی کرنے لگ جائیں اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم نے یہ حکم دیا ہے کہ شرک کو مٹا دے تو ہمارا یہ مطلب نہیں کہ تم مشرکوں پر پابندیاں عائد کرو یا مشرکوں کو قتل کرو یہ اسلام میں منع ہے پس اس جگہ من کے معنے روکنے اور کاٹنے کے ہیں فَلا تمنن پس مت کاٹ ۔ وہ شرک جس کے متعلق ہم نے کہا ہے کہ اسے مٹادے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو مشرکوں کو مارنے لگ جائے اور اس طرح تکثیر مسلمانوں کی جمعیت اور ان کی شوکت کو بڑھا دے۔ پس اس جگہ آدمی بڑھانے کا ذکر ہے روپیہ بڑھانے کا ذکر نہیں یعنی مشرکوں کو مت کاٹ ، مشرکوں پر قیود مت لگا اس طرح سے کہ مسلمانوں کی طاقت بڑھے اور مسلمان زیادہ ہو جائیں ۔ ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ تبلیغ رکھی ہے، ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ روحانی تعلیمات رکھی ہیں ، ہم نے اسلام کی ترقی کا ذریعہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق رکھے ہیں ان ذرائع سے اسلام کو بڑھاؤ ۔ مشرکوں پر پابندیاں لگا کر یا ان کو مار کر یا ان پر قیدیں لگا لگا کر اسلام بڑھانے کا حکم نہیں دیا۔ اب دیکھو یہ معنے کتنے اعلیٰ اور اسلام کی خوبی ثابت کرنے والے ہیں ۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقام صبر کی عظمت پھر فرماتا ہے وَ لِرَبِّک فَاصْبِرُ یعنی اگر مشکلات آئیں تو ان پر صبر کیجیو نگر وَلِرَبِّكَ۔ صبر دو طرح کا ہوتا ہے ایک ہوتا ہے صبر مجبوری۔ بڑے آدمی کا بیٹا ہوتا ہے وہ وہ کسی کو مارتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ کیا کریں بول نہیں سکتے ۔ ہم نے کئی دفعہ دیکھا ہے بڑا آدمی ظلم کر رہا ہو تو غریب آدمی کی ماں الٹا اپنے بچے کو مارتی ہے۔ یا اگر اُس نے کسی عورت کے خاوند کو مارا ہو تو وہ الگ بیٹھ کر روتے ہیں سامنے رو بھی نہیں سکتے۔