سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 430
صلى الله سيرة النبي علي 415 جلد 7 یہ بیچارگی کا صبر ہے مگر فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ ! ہم تیرے جیسے بزرگ شان والے انسان سے یہ امید نہیں کرتے کہ تو بزدلی والا صبر کرے گا بلکہ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ تُو وہاں صبر کر جہاں تجھے نظر آتا ہو کہ میرا یہاں صبر کرنا خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہوگا یہ نہیں کہ اس لئے صبر کرو کہ اگر میں نے صبر نہ کیا تو ظالم ظلم میں بڑھ جائے گا یا میں اس کا مقابلہ کس طرح کر سکتا ہوں وہ طاقتور ہے اور میں کمزور ہوں تو صبر کرے گا ہماری خوشنودی کے لئے اور ہمیں راضی کرنے کے لئے ۔ دوسرے معنے صبر کے ایک کام پر لگ جانے کے ہیں 5 پس اس کے معنے یہ ہوں گے کہ آج سے دوسرے سب کام چھوڑ کر تو صرف اپنے رب کی خدمت میں لگ جا۔ اب دیکھو یہ دربار کیسا شاندار ہے گورنر جنرل کے تقرر پر دربار خاص لگتا ہے، گورنر جنرل پیش ہوتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے ہم خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ تقرر عہدہ کے وقت سے ( جو سورۃ اقْرَأ میں ہے ) تم وردی پہن کر اور گھوڑالے کر کھڑے ہو کہ حکم ملتے ہی تم کام کے لئے نکل کھڑے ہو گے اب ہم ہمیشہ کے لئے یہ عہدہ تمہارے سپرد کرتے ہیں ، کوئی ماں کا بچہ ایسا نہیں جو تم کو اس عہدہ سے الگ کر سکے ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ عہدہ تمہارے سپرد کیا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانا تمہارا فرض ہوگا ، کمزور کو بیدار کرنا تمہارے ذمہ ہو گا اور اپنے رب کی سچی شان کو قائم کرنا تمہارا کام ہو گا اور سب سے پہلے یہ کام اپنے اہل وعیال اور اپنے دوستوں اور اپنی قوم کے لوگوں سے شروع کر ۔ پھر دائرہ وسیع کرتا چلا جا اور لباس اور جسم اور دماغ ور دل اور مکان اور ملک کی صفائی کو قائم کر اور ہر قسم کے گند کو مٹا دے اور آئندہ کے لئے تعذیب نفس اور تعذیب انسان اور تعذیب افکار کو دنیا سے ختم کر دے کہ خدا تعالیٰ کو اپنا قرب دینے کے لئے ان طریقوں کی ضرورت نہیں اور شرک کا قلع قمع کر دے اور ایسے سامان کر کہ مشرک شرک کو دنیا میں پھیلا نہ سکیں ، موحدین دنیا میں غالب ہو جائیں مگر یہ غلبہ مشرکوں پر پابندیاں لگا کر یا انہیں قتل کر کے حاصل نہ کیا جائے بلکہ تبلیغ اور قربانی اور