سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 428
سيرة النبي اسبی علي علی لله صلى الله 413 جلد 7 پہلی غلطیاں تھیں اور اور یہاں بھی وہی نادانی کام کر رہی ہے کہ ہر برے؟ ہر برے معنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور ہر اچھے معنے اپنے عیسی کی طرف منسوب کئے جائیں۔ لغت کے لحاظ سے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ کے صحیح معنے اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیت کے صحیح معنے کیا ہیں؟ اس غرض کے لئے ہم پھر لغت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مَن کبھی صلہ کے ساتھ آتا ہے اور کبھی بغیر صلہ کے۔ جب یہ صلہ کے ساتھ آئے تو اس کا صلہ علی ہوتا ہے چنانچہ مَنَّ عَلَيْهِ کے معنے ہوتے ہیں اس پر احسان کیا یا اس پر احسان جتایا 2 اور بغیر صلہ کے مَنْ آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کسی کو روکنا یا کاٹنا 3 اور اسْتَكْثَرَ کے معنے ہوتے ہیں زیادہ لینا 4۔ اس میں روپیہ کی شرط نہیں جو چیز بھی ہم زیادہ لیں اس کے معنے استكثار کے ہو جائیں گے ۔ پہلے دو معنوں کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں اور آپ کی شان کے بالکل خلاف ہیں اور پھر سیاق و سباق کے ساتھ بھی ان کا کوئی جوڑ نہیں ۔ ذکر ہو رہا ہے انذار کا اور کہا جا رہا ہے کپڑے دھو ، ریٹھے لا ، صابن خرید ، حمام میں جا اور پھر سو دخوری نہ کر۔ ان گندے معنوں کے ساتھ بھی اس کا کوئی جوڑ نہیں بنتا لیکن ہم جو معنے بتاتے ہیں وہ سارے کے سارے ان آیتوں پر چسپاں ہو جاتے ہیں ۔ اب ہمارے نقطہ نگاہ سے اس کے یہ معنے بن جائیں گے کہ اے محمد رسول الله ! ہم نے تجھے شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے۔ پہلے حکم آچکا ہے کہ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ شرک کو مٹا دے۔ پس ہم نے شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے لیکن اس سے ایک غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے ۔ ہم اس غلط فہمی کی تشریح کر دیتے ہیں کہ کہیں تم یا تمہارے مرید اس حکم کے یہ معنے نہ کر لو کہ مشرکوں کو مارو اور اُن کی آزادی پر پابندی عائد کرو اور اس طرح اسلام کو ترقی دو ۔ کیونکہ مٹانے کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جس طرح وہ کہتے ہیں کہ طرح وہ کہتے ہیں کہ