سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 427
صلى الله سيرة النبي علي 412 جلد 7 میں تمہیں تین سو اشرفی دے دوں گا۔ اُس نے کہا تین سو نہیں تو اڑھائی سو دے دیجئے ۔ کہنے لگا اڑھائی سو بھی کون دے سکتا ہے۔ اس نے کہا اڑھائی سو نہیں تو دوسو دے دیجئے ۔ کہنے لگا دو سو بھی زیادہ ہے۔ اس نے کہا تو پھر سو اشرفی لائیے۔ وہ کہنے لگا سو بھی بہت زیادہ ہے غرض اسی طرح وہ قیمت گھٹاتا چلا گیا جب دس پر پہنچا تو بادشاہ نے کہا دس اشرفی بھی بہت زیادہ ہے۔ اس پر وہ بے اختیار کہنے لگا وہ کم بخت منحوس جو مجھے راستہ میں ملا تھا جس طرح اُس نے کہا تھا ویسا ہی ہوا ہے اور یہ کہہ کر وہ لوٹا ۔ بادشاہ ہنس پڑا اور اس نے اسے واپس بلایا اور کہا گھبراؤ نہیں اور پھر اس نے حکم دیا کہ جتنی رقمیں ہوئی ہیں وہ سب جمع کر کے اسے دے دی جائیں یعنی 300+250+200+150+100+90 اس طرح کئی سو روپے بن گئے جو اُسے دے کر اس نے رخصت کیا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک یہ دھوئے اور ڈالی کا طریق ہوا کرتا تھا چونکہ یہ سود خوری سے کم ہے اس لئے وہ اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ اے محمد رسول اللہ ! تو ڈھوئے لے کر لوگوں اللہ او ڈھوٹے لے کر لوگوں کے پاس نہ جایا کر۔ اے محمد رسول اللہ ! تو ڈالیاں لے لے کر ڈ پٹی کمشنر کے پاس نہ جایا کر ۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ - خدا کا گورنر جنرل اور اُس کا جرنیل آیا ہے اس کو ڈھوئے اور ڈالیوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔ خدا تو اس سے یہ کہتا ہے کہ ہم تجھے اپنے پاس سے رزق دیں گے اور بے حساب دیں گے۔ خدا تو اسے یہ کہتا ہے کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک 1 اے محمد رسول اللہ ! اگر تو دنیا میں نہ آیا ہوتا تو یہ سونے اور چاندیاں اور لو ہے اور پیتل اور زمرد اور ہیرے اور دریا اور پہاڑ غرض کچھ بھی نہ ہوتا یہ سب کچھ تیری خاطر پیدا کئے گئے ہیں ۔ وہ شخص جس کی جوتیوں کی خاک ہیں یہ چیزیں بلکہ جس کی جوتیوں کی خاک سے ادنی ہیں اس کے متعلق مولوی یہ کہتے ہیں کہ وہ زیادہ لینے کے لئے لوگوں کو ڈھوئے دیتا پھرتا تھا کہ میں دس روپے کی چیز دیتا ہوں وہ مجھے پندرہ دے دے۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ ۔ یہ بھی اسی طرح ان کی غلطی ہے جس طرح کہ ۔ بھی اسی طرح ان کی غلطی ہے جس طرح کہ