سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 426

له صلى الله سيرة ابي عليه 411 جلد 7 ہوں ۔ کہنے لگا کہ کس لئے ؟ اس نے اسی بادشاہ کا نام لیا کہ اس کے حضور میں پیش کرنے کے لئے یہ لے چلا ہوں ۔ کہنے لگا کیوں؟ اس نے کہا اس لئے کہ وہ مجھے انعام دے گا۔ اس نے کہا ان چیزوں کا بھلا کیا انعام ہو سکتا ہے یہ تو بہت معمولی چیزیں ہیں ۔ اچھا تم کیا امید رکھتے ہو؟ اس نے کہا میں تو امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے تین سو اشرفی انعام دے گا ۔ اُس نے کہا تین سو اشرفی ! یہ تو ایک اشرفی کی بھی چیز نہیں تمہیں تین سو اشرفی کون دے گا؟ کہنے لگا تین سو نہ سہی اڑھائی سو لے لوں گا ۔ اُس نے کہا اڑھائی سو بھی بہت زیادہ ہے ۔ کہنے لگا تو پھر دو سو سہی۔ اس نے کہا دو سو بھی بہت زیادہ ہے۔ کہنے لگا نہ مانے گا تو ڈیڑھ سو سہی ۔ اس نے ڈیڑھ سو کو زیادہ بتایا تو کہنے لگا سوسہی ۔ اُس نے کہا کون بے وقوف ہے جو تمہیں سو اشرفی دے دے گا ۔ وہ بیچارا مایوس ہو کر اسی طرح قیمت گراتا چلا گیا اور آخر کہنے لگا کہ میں دس اشرفی تو ضرور لوں گا۔ اُس نے کہا یہ تو دس اشرفی کی بھی چیز نہیں ۔ کہنے لگا اگر اس نے دس سے بھی کم دیں تو میں گدھا اُس کی ڈیوڑھی میں باندھ دوں گا اور آپ چلا آؤں گا ۔ اُس نے کہا اچھا ۔ اس گفتگو کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر واپس آ گیا اور اُس نے سپاہیوں کو حکم دے دیا کہ اگر اس اس طرح کا کوئی آدمی آئے تو خیال رکھنا اور اسے میرے پاس بھیج دینا۔ اس نے پتہ نہ لگنے دیا کہ میں بادشاہ ہوں ۔ جب وہ آیا تو سپاہیوں نے اسے اندر بھجوا دیا۔ وہاں بادشاہی جلال تھا اور تمام درباری ادب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس کی شکل پہچانی نہیں جاتی تھی کیونکہ جنگل میں وہ سادہ لباس میں گھوڑے پر اکیلا سوار تھا۔ اُس جنگلی کو دیکھ کر بادشاہ کہنے لگا کس طرح آنا ہوا؟ اُس نے کہا حضور ! آپ کے لئے ایک نیا تحفہ لایا ہوں ۔ کہنے لگا کیا چیز ہے؟ اس نے کہا تریں اور کھیرے ہیں۔ کہنے لگا کیا بے قیمت چیز ہے۔ اس نے کہا حضور نئی چیز ہے کسی نے اب تک کھائی نہیں ۔ اُس نے پوچھا اچھا! تو پھر تم مجھ سے کیا امید رکھتے ہو؟ کہنے لگا تین سو اشرفی ۔ اُس نے کہا کیا تم مجھے پاگل سمجھتے ہو کہ ان کھیروں اور تروں کے بدلہ