سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 425

سيرة النبي علي صلى الله 410 جلد 7 صلى الله رسول کریم ﷺ کی سیرت کے متفرق پہلو سیر روحانی کے چھٹے لیکچر فرمودہ 28 دسمبر 1951 ء میں حضرت مصلح موعود نے صلى الله حکیمانہ اور لطیف انداز میں آنحضرت ﷺ کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔ " وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ کی تشریح آگے فرماتا ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ غیر احمدی مولوی اس کے یہ معنے کرتا ہے کہ لوگوں پر اس نیت سے احسان نہ کر کہ تجھے اس کے بدلہ میں کچھ زیادہ ملے ۔ اسی کا نیت سے امان کرکہ تجھے کے بدلہ کا ترجمہ میں نے پہلے یہ کر دیا تھا کہ سود خوری نہ کر ۔ لوگوں کو اس لئے پیسے نہ دیا کر کہ اس کے بدلے میں تجھے زیادہ ملے لیکن دوسری شکل ہمارے ملک میں ایک اور بھی ہوتی ہے جسے ڈھو یا دینا کہتے ہیں اور اردو میں ڈالی دینا کہتے ہیں ۔ بعض باغبان گلدستے بنا لیتے ہیں کچھ پھول لے لئے ، کچھ تریں لے لیں ، کچھ تر کاری لے لی اور کسی امیر آدمی کے گھر لے گئے کہ میں ڈالی لایا ہوں آگے اُس کی طرف سے جو بدلہ ملتا تھا وہ قیمت میں نہیں ہوتا تھا۔ مثلاً یہ نہیں ہوتا تھا کہ دو آنے کی چیز ہوئی تو اس نے دو آنے ہی دے دیئے بلکہ کبھی دس کبھی میں کبھی پچاس اور کبھی سو روپے دے در دیتا تھا۔ بنوامیہ کے ایک بادشاہ کا لطیفہ عربوں میں اس کا بڑا رواج تھا خصوصاً بنوامیہ کے خلفاء کے پاس بڑے بڑے تحفے آتے خلفاء کے پاس بڑے تھے۔ لطیفہ مشہور ہے کہ بنو امیہ کا ایک بادشاہ ایک دفعہ شکار کے لئے گیا اور جنگل میں اکیلا رہ گیا۔ اُسے ایک شخص ملا جو گدھا ہانک رہا تھا اور اُس پر اُس نے کھیرے رکھے ہوئے تھے۔ بادشاہ نے کہا میاں ! کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا دمشق جا رہا