سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 421
سيرة ة النبي علي صلى الله 406 جلد 7 آگئی۔ بیعت کے وقت جو الفاظ دہرائے جاتے تھے ان میں یہ الفاظ بھی آتے تھے کہ ہم شرک نہیں کریں گی ، باقی الفاظ تو وہ دہراتی چلی گئی جب آپ ان الفاظ پر پہنچے کہ کہو وہ پر ہم شرک نہیں کریں گی تو چونکہ ہندہ کی طبیعت بڑی تیز تھی فوراً مجلس میں بول اٹھی کہ کیا اب بھی ہم شرک کریں گی؟ تم اکیلے تھے اور ہم سارے تم کو مارنے کے لئے اکٹھے ہوئے ، تم کمزور تھے اور ہم طاقتور تھے ، ہم نے ساری قوم کا زور صرف کیا مگر تمہارا خدا جیتا اور ہم ہارے ۔ کیا اب بھی ہم شرک کریں گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہندہ ہے؟ جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے لئے تو سزا تجویز ہے اُس نے کہا يا رسول الله ! اب آپ کو مجھ پر کوئی اختیار نہیں اب میں مسلمان ہو چکی ہوں 32۔ تو دیکھو یہ توحید کی تعلیم تھی جس نے دلوں کو اس طرح صاف کر دیا کہ دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ سب لغو اور عبث باتیں ہیں بھلا شرک کوئی مان سکتا ہے۔ مشرکانہ عقائد کے پیرو بھی آج پھر جوں جوں تعلیم پھیلی شرک نتا گیا۔ یورپ میں اب بھی ایسے گرجے موجود توحید کو ہی درست سمجھتے ہیں ہیں جن میں حضرت مریم اور حضرت عیسی کی تصویر لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور جن کے آگے وہ سجدے کیا کرتے تھے۔ ہندوؤں میں بھی لاکھوں دیوتا تسلیم کئے جاتے تھے مگر اب دیکھو ہندوؤں میں جتنے نئے فرقے نکلے ہیں سب توحید پیش کرتے ہیں آخر ہزاروں لاکھوں بت جو ایجاد ہوئے ہیں تو ہر زمانہ میں ایجاد ہوتے رہے ہیں مگر اب کوئی نئی موومنٹ بتا دو جس میں کوئی نیا بت ایجاد کیا گیا ہو۔ اب آریہ سماجی نکلے، بنگال کی برہمو سماج نکلی، اسی طرح بنگال کی ویو یک انند (VIVEKANAND 33 کی سوسائٹی ہے، ٹیگور 34 تھا غرض جتنے نکلے سب نے توحید پیش کی اور کہا کہ ہمارے مذہب میں بت ہیں ہی نہیں ۔ یہ سب باتیں ۔ ہیں یہ نتیجہ تھا اسلام کی تعلیم کا۔ ادھر عیسائیت جو مسیح اور مریم کی خدائی کو پیش کیا کرتی تھی اب جس عیسائی سے پوچھو وہ کہتا ہے یہ تو ظہور ہیں ۔ ایک ظہور کا نام باپ رکھ دیا،