سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 420
سيرة النبي علي صلى الله 405 جلد 7 جب ہم باہر کسی کام کے لئے جاتے تو ایک چھوٹا سا پتھر کا بنا ہوا بت اپنے ساتھ لے ۔ جاتے تا کہ اُس کی برکت سے ہم مصیبتوں سے بچے رہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں سفر پر گیا اور بت کو اپنے ساتھ لے لیا ایک جگہ پہنچ کر مجھے ایک ضروری کام پیش آیا میں نے اسباب رکھا اور بت کو پاس بٹھا کر کہا حضور والا! آپ ذرا میرے اسباب کا خیال رکھیے میں ایک ضروری کام کے لئے جا رہا ہوں یہ کہہ کر میں چلا گیا۔ وہ کہنے لگے کام کر کے جب میں واپس آ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ گیدڑ نے اُس کے سر پر پیر رکھا ہوا ہے اور پیشاب کر رہا ہے ۔ گیدڑ اور کتے کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ٹانگ اٹھا کر اور کوئی سہارا ہو تو اُس پر رکھ کر پیشاب کرتا ہے میں نے آتے ہی اُسے اٹھا کر پرے پھینک دیا اور میں نے کہا اپنے آپ کو تو پیشاب سے بچا نہیں سکتا میرے سامان کو تو نے کیا بچانا ہے اور میں آ کر مسلمان ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تعلیم شرک کے خلاف پیش کی وہ ایسی نفسوں میں گڑ گئی کہ جو بھی سنتا تھا وہ اس پر فریفتہ ہو جاتا تھا اس سے باہر سے باہر نکلنے کی اس میں جرات جرات ہی نہیں تھی ۔ ہندہ کا اعتراف توحید ہندہ کا واقعہ مشہور ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو مسلمانوں کو جو لوگ دکھ دینے والے تھے جنہوں نے مسلمانوں پر بعض دفعہ انسانیت سوز مظالم کئے تھے یعنی ان کے ناک کان وغیرہ کاٹے تھے ان میں ہندہ بھی تھی ۔ ایسے لوگوں کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ ان کو معافی نہیں ہو گی بلکہ ان کو پکڑ کر سزا دی جائے گی ہندہ کے متعلق بھی یہی احکام تھے مگر ہندہ بڑی ہوشیار عورت تھی چھپ گئی ۔ اُسے تلاش کیا گیا مگر نہ ملی مسلمانوں نے سمجھا کہ کہیں بھاگ گئی ہے۔ درمیانی طرز کے لوگ جو غور کر رہے تھے اور اس لڑائی کا انجام دیکھنا چاہتے تھے جب مکہ فتح ہو گیا تو انہوں نے سمجھا کہ اسلام سچا ہے ان کے لئے آپ نے بیعت کا اعلان کر دیا۔ عورتوں کے لئے بھی اعلان ہوا۔ چنانچہ سینکڑوں عورتیں بیعت کے لئے آئیں اور ان میں ہندہ بھی چھپ کر