سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 419
صلى الله سيرة النبي علي 404 ضرورت نہیں کہ وہ ان باتوں کو رائج کرے۔ جلد 7 رُجُز کے تیسرے معنے تیسرے معنے الرجز کے شرک کے ہیں 30 اس لحاظ ے وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ کے یہ معنے ہوں گے کہ وو وو تو شرک مٹا دے۔ دیکھو شرک کو چھوڑ دے اور شرک کو مٹا دے‘ میں فرق ہے۔ صلى الله علوم مولویوں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ تو شرک چھوڑ دے حالانکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک پہلے ہی چھوڑا ہوا تھا ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی شرک نہیں کیا 31۔ پس یہ معنے کرنا کہ شرک چھوڑ دئے محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے اور یہ معنے کرنا کہ شرک کو مٹا دے، یہ رسول اللہ ﷺ کا اصل کام ہے۔ خدا فرماتا ہے تو شرک کو توڑ دے کیونکہ ھجر کے معنے توڑ دینے اور مٹا دینے کے بھی ہیں ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی اتنی اعلیٰ تعلیم دی کہ شرک کی جڑا کھیڑ کر رکھ دی ۔ انسانیت کی تذلیل کا ایک بھیانک نظارہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوئے تھے بھلا سو چو تو سہی کہ اُس وقت کیسا بھیانک نظارہ نظر آتا تھا کہ ابو جہل جیسا انسان جو باتیں کرتا تھا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کے بڑے بڑے عقلمندوں میں سے ہے۔ ابوسفیان جس کا اسلام لانے کے بعد بھی عرب پر سکہ جما ہوا تھا اور لوگ اُس کی عزت کرتے تھے اُن کی یہ حالت تھی کہ اپنے سامنے مٹی کا بنا ہوا بت رکھتے ہیں اور اُس کے آگے گر جاتے ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی ذلت تک انسانی دماغ پہنچا ہوا تھا۔ بتوں کی بے بسی ایک صحابی کہتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم دینی شروع کی تو میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کیونکہ ماں باپ سے سنا ہوا تھا کہ بتوں میں طاقت ہوتی ہے ہماری عادت تھی کہ