سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 416
له صلى الله سيرة ابي عليه 401 جلد 7 معنوں کے لحاظ سے گندگی اور غلاظت کے ساتھ خدا نہیں ملتا اب ان معنوں وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ ر وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ کے یہ معنے بنتے ہیں کہ اے ہمارے گورنر ! جو یہ پتہ لگتے ہی کہ ہم اس کو ایک اہم کام سپرد کرنے لگے ہیں وردی پہن کر گھوڑے کے پاس تیار کھڑا ہو گیا ہے کہ چھلانگ لگا کر سوار ہو جاؤں دائمی طور پر اپنے کام میں لگ جا اور دنیا کو ہوشیار کر اور پہلے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی اصلاح کر پھر باقی دنیا کی اصلاح کا فرض سرانجام دے اور ہر قسم کی صفائی دنیا میں قائم کر اور لوگوں کو بتا کہ گندگی اور غلاظت کے ساتھ خدا نہیں ملتا بلکہ انسان کا ذہن کند ہو جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے۔ رجز کے دوسرے معنوں اب ہم اس آیت کو دوسرے معنوں کے لحاظ کے لحاظ سے آیت کی تشریح سے لیتے ہیں۔ دوسرے معنے رجز کے عذاب کے تھے اس کے لحاظ سے آیت کے یہ معنے بن جائیں گے کہ تو عذاب کو دنیا سے مٹا دے ۔ ان معنوں کے رو سے مندرجہ ذیل مطالب اس آیت کے نکلتے ہیں۔ تعذیب نفس کی ممانعت اول اسلام سے پہلے مختلف ادیان میں تعذیب نفس کو روحانیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا مثلاً کہتے تھے کہ بیٹے کی قربانی خدا کے قریب کر دیتی ہے ۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ شادی نہ کرنا ، رہبانیت اختیار کرنا اور اپنے نفس کا بیکار کر دینا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔ ہتھیار کے ساتھ اپنے آپ کو ہیجڑا بنالینا یہ بڑی نیکی ہے۔ اپنے آپ کو الٹا لٹکائے رکھنا یعنی سر نیچے اور ٹانگیں اوپر کر لینا یہ بڑی نیکی ہے۔ ٹھنڈے موسم میں دریا میں بیٹھے رہنا یہ بڑی نیکی ہے، گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھ رہنا یہ بڑی نیکی ہے، جسم پر کوڑے لگانا یہ بڑی نیکی ہے، اچھی اور پاکیزہ چیزیں نہ کھانا یہ بڑی نیکی ہے۔ پس فرماتا ہے ہم نے ان تمام باتوں کی تیرے ذریعہ سے اصلاح کر دی ہے اور