سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 417
سيرة النبي علي صلى الله 402 جلد 7 ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ وہ تمام احکام جن کو دین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، جن کو روحانیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ، جن میں انسان کے دل کو یا جسم کو یا دماغ کو عذاب دیا جاتا تھا وہ ، د ساری کی ساری چیزیں منسوخ کی جاتی ہیں۔ خدا سے ملنے کے لئے اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کا ناک کاٹا جائے یا کسی کو الٹا لٹکایا جائے ۔ خدا کے ملنے کے لئے روحانی ذرائع ہیں یہ غلط طریق تھے جو دنیا نے جاری کئے ہوئے تھے۔ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جا اور ان کو منسوخ کر اور دنیا کو بتا دے کہ یہ غلط طریق تھے جو اس نے اختیار کر لئے تھے۔ عورتوں کو معلقة چھوڑنے اور اسی طرح عورتوں کو مُعَلَّقہ چھوڑا جاتا آگ کا عذاب دینے کی ممانعت تھا یہ بھی تغذیب تھی۔ آگ کا عذاب دیا جاتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کسی کو آگ کا عذاب دینے کی اجازت نہیں یہ خدا کا حق ہے کہ وہ جہنم میں ڈالتا ہے تمہیں حق نہیں کہ ایسا کرو۔ غلامی کی ممانعت اسی طرح دنیا میں غلامی کا رواج تھا انسان کی آزادی کو چھین لیا جاتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا دیا کہ یہ عذاب بند کیا جاتا ہے اب کوئی غلامی نہیں 26۔ جانوروں کو دکھ دینے کی ممانعت جانوروں کے منہ پر لوگ مجھے لگاتے تھے اور اس طرح جانوروں کی مختلف قسمیں بناتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح جانور کو تکلیف ہوتی ہے اگر تم نے نشان ہی لگانا ہو تو جانوروں کی پیٹھ پر لگاؤ تا کہ انہیں کم سے کم تکلیف ہو۔ جانوروں کے متعلق لوگ سمجھتے تھے کہ وہ حقیر اور ذلیل چیز ہیں اور ان کے کا ۔ اللہ وسلم فرمایا احساسات کا خیال رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو محض اس لئے عذاب دیا گیا کہ اُس نے بلی کو باندھ رکھا اور اُسے کھانے پینے