سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 415
سيرة النبي علي صلى الله 400 جلد 7 افکار کی صفائی کے متعلق ہدایات پھر آپ نے کہا کہ افکار کی صفائی بھی ا ہدایات ضروری ہے گویا آپ نے ہر ایک چیز کی ہر صفائی کا حکم دیا ہے صرف جسم کو مل مل کر دھونے کا حکم نہیں مثلاً فکر ہے اس کی صفائی کا بھی آپ نے حکم دیا فرمایا بدظنی نہیں کرنی 21 بغض اور کینہ دل میں نہیں رکھنا 22 گویا دماغ اور خیالات کی پاکیزگی بھی آپ نے قائم کی اور حکم دیا کہ کسی قسم کے بد خیالات اور بدارا دے تم نے نہیں رکھنے۔ حکمہ پھر قلب کی صفائی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے محبت قلب کی صفائی کا حکم صفائی کا حکم خالص کا حکم دیا، نفاق سے روکا، بچے تعلقات وفاداری پر زور دیا 23۔ ت اور پھر زبان کی صفائی کا حکم دیا فرمایا گالی گلوچ نہیں کرنی ، زبان کی صفائی کا حکم سخت الفاظ نہیں بولنے، دوسرے سے محبت کے ساتھ پیش آنا ہے 24 ۔ منہ کی صفائی کا حکم پھر منہ کی صفائی ہے منہ کی صفائی کے لئے مسواک کا حکم دیا کا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ نے منہ کی بلکہ یہاں تک فرمایا کہ فرشتے نے منہ کی صفائی کے متعلق اتناز ور دیا کہ میں نے سمجھا شاید فرض ہو جائے ۔ پھر فرمایا میں ہر نماز کے لئے مسواک اس لئے ضروری قرار نہیں دیتا کہ کہیں میرے حکم کے بعد خدا اس کو فرض قرار نہ دے دے 25۔ عظیم الشان تغیر یہ کتا عظیم الان تغیر ہے جو مدرسول للہصلی اللہ علیہ سلم کے ذریعہ ہوا ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی دنیا دیکھو، پہلی تاریخیں پڑھو ، ہندوؤں کی تاریخیں پڑھو ، عیسائیوں کی تاریخیں پڑھو، یہودیوں کی تاریخیں پڑھو وہ غلاظت کا ٹوکرا معلوم ہوتی ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو دیکھو یہاں بڑا بزرگ تو الگ رہا جو چھوٹے سے چھوٹا بزرگ تھا وہ بھی پاکیزہ اور صاف ستھرا اور نہایا دھویا ہوا نظر آتا ہے۔