سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 414

سيرة النبي علي صلى الله 399 جلد 7 ہے تمہارا مرزا ؟ تم کہتے ہو وہ خدا کا مامور ہے اور یہ ہے اور وہ ہے ہم نے سنا ہے کہ ۔ وہ بادام اور پستہ اور مرغ سب چیزیں کھا لیتا ہے۔ وہ کہنے لگے آپ مرزا صاحب کو چڑانے کے لئے پاخانہ کھایا کریں مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ غرض اس نے اپنے رنگ میں جیسے اس کا اپنا مذاق اور علم تھا جواب دے دیا تو بات یہ ہے کہ دنیا میں بزرگی کا نقشہ یہی کچھ رہ گیا تھا کہ انسان غلیظ اور گندہ ہو ۔ مکان کی صفائی کے متعلق ارشادات اسی طرح مکان کی صفائی بھی کوئی ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان کی صفائی کا بھی حکم دیا 16 چنانچہ آپ نے مسجد کی صفائی کے متعلق کئی احکام دیئے (اصل مکان جو آپ کے قبضہ میں تھا وہ وہی تھا ) آپ نے فرمایا مسجد کو صاف رکھو، اس میں جھاڑو دیا کرو، اس میں خوشبوئیں جلایا کرو تا کہ وہ صاف رہے 17۔ راستوں کی صفائی کا حکم اسی طرح راستوں کی صفائی کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا آپ نے فرمایا اس شخص کو ثواب ملتا ہے جو راستہ میں سے پتھر وغیرہ اٹھا دے 18۔ پاخانہ کے متعلق فرمایا کہ جو شخص راستہ میں پاخانہ پھرتا ہے اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے 19 ، جو شخص کھڑے پانی میں پیشاب کرتا ہے اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص راستہ سے پتھر یا کانٹوں کو ہٹا دیتا ہے یا گندی چیزوں کو ہٹا دیتا ہے اسے ثواب ملتا ہے۔ اگر کوئی مسجد میں تھوک بیٹھے تو فرمایا وہ اسے وہاں سے اٹھا کر مٹی میں دفن کر دے20 ۔ غرض اتنے احکام ہیں صفائی کے کہ اس تہذیب یافتہ زمانہ میں بھی ہمارا ملک کم سے کم ان پر عمل نہیں کر رہا۔ یہ طہارت اور نظافت کے احکام ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا ۔ میں قائم ہوئے ۔