سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 411

سيرة النبي علي صلى الله 396 جلد 7 صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کس طرح عمل کیا ۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے تاریخ میں یہ کہیں ذکر نہیں آتا کہ آپ نے حضرت خدیجہ سے یہ کہا ہو کہ صابن لایا جائے اور آپ نے صابن مل مل کر میل اتارنی شروع کر دی ہو اور پھر حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہو مگر جو کچھ میں کہتا ہوں وہ کتب اسلام میں لفظا لفظاً موجود ہے۔ رجز کے معنے ہوتے ہیں گندگی ۔ لیکن گندگی سے مراد صرف میل نہیں بلکہ رجز کے معنے ہیں اشیائے ماحول کی گندگی ، جسم کی گندگی ، دماغ کی گندگی ، دل کی گندگی، خیالات کی گندگی ، زبان کی گندگی یہ ساری باتیں رُجز کے اندر شامل ہیں ۔ اب یہ کتنا شاندار کام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د کیا گیا ہے ۔ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے یہ کام کیا ہے تو آپ کی کتنی شان بلند ہو جاتی ہے۔ کوئی نبی ہے ہی نہیں جس نے یہ کام کیا ہو۔ انجیل لاؤ ، توریت لاؤ ، صحفِ انبیاء لاؤ، آپ کے مقابلہ میں کوئی نبی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ اسلام سے پہلے گندگی کو اسلام سے پہلے دین کے یہ معنے سمجھے جاتے تھے کہ گندے رہو۔ عیسائی تاریخوں کو نکال بزرگی کی علامت سمجھا جاتا تھا کر دیکھ لو میں نے پڑھا ہے بعض پادری بڑے بزرگ سمجھے جاتے تھے اور ان کی بزرگی کی علامت یہ سمجھی جاتی تھی کہ چالیس سال سے انہوں نے غسل نہیں کیا اور ناخن اتنے بڑھے کہ کئی کئی انچ لمبے ناخن ہو گئے گویا ان کے ہاں بزرگوں کا نشان یہی سمجھا جاتا تھا۔ مسلمانوں نے بھی کچھ کمی نہیں کی انہوں نے ایک زیارت گاہ بنائی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ ایک بزرگ وہاں بیٹھے تھے چالیس سال تک انہوں نے سر نہیں اٹھایا اور دیوار میں بیٹھے بیٹھے گڑھا پڑ گیا گویا پیشاب اور پاخانہ بھی پاجامہ میں ہی کرتے رہے۔ اس میں عزت کیا ہے؟ آخر سوچنا چاہئے کہ جو شخص بیٹھا رہا اور ہلانہیں اور وہیں اس کے جسم کا نشان پڑ گیا اس کے معنے یہ ہیں کہ اس نے نہ نماز پڑھی نہ روزہ رکھا نہ دین کا کوئی کام کیا