سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 412

له صلى الله سيرة ابي عليه 397 جلد 7 نہ کھانا کھایا نہ نہایا نہ پیشاب کیا نہ پاخانہ کیا مگر وہ تو ضروری ہے پھر یہی صورت ہو ہا سکتی ہے کہ وہ پیشاب پاخانہ پاجامہ میں ہی کر ڈالتے ہوں گے اور ان کا نام انہوں نے زیارت گاہ رکھا ہوا ہے ۔ ہندوؤں میں دیکھ لو ان میں بھی بزرگی کے یہی معنے سمجھے جاتے ہیں کہ فلاں شخص ایسا بزرگ ہے کہ کوئی اس کو پرواہ ہی نہیں ۔ جب سے پیدا ہوا ہے نہایا نہیں ۔ بدھ جی کے متعلق بتاتے ہیں کہ وہ اتنے بزرگ تھے کہ انہوں نے دیوار کے پاس بیٹھ کر عبادت کرنی شروع کی نیچے سے بانس کا درخت نکلا اور ان کے پیٹ میں سے ہوتے ہوئے سر میں سے پار نکل گیا مگر وہ ہلے ہی نہیں ۔ غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت دنیا میں آئے جب کہ ساری دنیا غلاظت کا پوٹلا بنی ہوئی تھی جب کہ مذہب اور روحانیت کے معنے یہ سمجھے جاتے تھے کہ انسان غلیظ اور گندہ ہو۔ اس دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود پیدا ہوتا ہے اور ایسے خلاف ماحول میں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ملتا ہے کہ اے محمد رسول الله ! یہ جو تجھے ارد گرد نظر آتا ہے کہ گندگی کا نام مذہب اور غلاظت کا نام نیکی رکھا جا رہا ہے یہ سب جھوٹ ہے ان خیالات کو دنیا سے نیست و نابود کر دے۔ جسم کی صفائی کے متعلق رسول کریم چنانچہ محمدرسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جمعہ کو آؤ تو غسل کر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے آؤ ، مسجد میں آؤ تو پیاز کھا کر یا لہسن کھا کر نہ آؤ تا کہ تمہارے منہ سے بدبو نہ آئے ۔ عطر لگا کر آؤ۔ پھر انسان کے ساتھ شہوت لگی ہوئی ہے اسلام نے حکم دیا ہے کہ اس کے بعد غسل کیا جائے ۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ غسل جنابت کا فائدہ کیا ہے؟ وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ غسل جنابت ہی ہے یہ جو تمہیں پاکیزہ رکھتا ہے۔ اب تم مجبور ہو جاتے ہو کہ غسل کرو اور اگر غسل جنابت نہیں کرتے تو بے دین سمجھے جاتے ہو۔