سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 410
صلى الله سيرة النبي علي 395 جلد 7 پھر کہتا ہے ٹھہر جا پہلے کپڑے دھولے۔ پھر کہتا ہے کپڑے بھی ابھی رہنے دے پہلے نہالے۔ غرض بالکل غیر متعلق باتیں ہیں اور کسی اعلیٰ درجہ کے کلام میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ۔ اب میں بتاتا ہوں کہ اس آیت کے اصل معنی کیا ہیں اور ہر معنی کے لحاظ سے اس آیت سے کتنے بڑے معارف نکلتے ہیں ۔ میں نے بتایا کہ رُجُز کے تین معنے ہیں گندگی ، عذاب اور شرک ۔ اور ھجر کے معنے چھوڑنے کے بھی ہیں، کاٹنے کے بھی ہیں اور گلے اور پیر میں رسہ باندھ کر حرکت کو محدود کرنے کے ہیں ۔ ان معنوں کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مطابق جو معنے بنتے ہیں وہ یہ ہیں ۔ دنیا میں غلاظت اور اول:۔ اے رسول ! گندگی کو مٹادے ، گندگی کو چھوڑ ! دے نہیں ۔ چھوڑنے کے یہ معنے ہیں کہ گندہ ہے اور گندگی مٹا دینے کا حکم مٹانے کے یہ معنے ہیں کہ لوگ گندے ہیں تو ان کی گندگی کو دور کر ۔ اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جب هَجْرٌ کے معنے کاٹ دینے کے بھی پائے جاتے ہیں، جب هَجْرٌ کے معنے مٹا دینے کے بھی پائے جاتے ہیں، جب هَجْرٌ کے معنے توڑ دینے کے بھی پائے جاتے ہیں تو تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلاظت میں کیوں پھنسانا چاہتے ہو۔ حقیقت تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں یہ ہمارا دوست ہے یہ ہمارے عیبوں کو چھپاتا ہے مگر یہ مولوی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بنے پھرتے ہیں اور پھر جھوٹے عیب آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ جب ھجر کے معنے کاٹ دینے کے بھی ہیں تو وہ کیوں ایسے معنے نہیں لیتے جو محمد رسول اللہ کی شان کے مطابق ہیں کہ اے محمد رسول اللہ ! تو گندگی کو کاٹ ڈال یعنی دنیا سے اس کا نام ونشان مٹا دے اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔ ساری دنیا گندی تھی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اس گندگی کو مٹا دے اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ رسول اللہ صلى الله