سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 409

صلى الله سيرة النبي علي مجسٹریٹ مجرم کو جھاڑ رہا ہے ۔ 394 جلد 7 رجز اور ھجر کے متعدد معانی بیشک رجز کے معنے عربی زبان میں غلاظت اور میل کچیل کے بھی ہیں 10 لیکن اس کے ایک معنے الْعَذَابُ کے ہیں 11 اور ایک معنی عِبَادَةُ الْأَوْثَانِ 12 یعنی بتوں کی پرستش کے ہیں۔ اسی طرح ھجر کے بھی کئی معنی ہیں ۔ ھجر کے ایک معنی ہیں چھوڑ دینا اور اعراض کرنا 13 دوسرے معنی ہیں کسی چیز کو پوری طرح کاٹ دینا 14 اور تیسرے معنی ہیں اونٹ کے پیر میں رسی باندھ کر وہی رسی اس کی گردن سے باندھ دینا تا کہ پھندا پڑ جائے اور وہ نکلنا بھی چاہے تو نکل نہ سکے اور اس کی حرکت زیادہ سے زیادہ محدود رہ جائے 15 ۔ پس وہ تو یہ معنی کرتے ہیں کہ اپنے جسم کی گندگی دور کر یعنی کپڑے بھی دھو اور جسم کی گندگی بھی دور کر لیکن ہم کہتے ہیں کہ ان معنوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ ہے ایک شبہ کا ازالہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کے متعلق یہ تسلیم شدہ بات کہ بعض دفعہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جاتا ہے اور مرادا مت ہوتی ہے۔ اس طرح ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچاؤ کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ گندگی اور غلاظت دور کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد آپ کی امت ہے لیکن اس جگہ یہ معنے نہیں ہو سکتے اس لئے کہ یہ تو گورنر کے تقرر کا اعلان ہے جب اُس کی امت کوئی تھی ہی نہیں ، جب امت تھی ہی نہیں اور آپ کو خاتم النبین کے عہدہ پر قائم کیا جا رہا تھا تو اُس وقت اس کا کیا ذکر تھا کہ تیرے مرید کپڑے بھی دھوئیں اور جسم کی غلاظت بھی دور کریں اُس وقت بہر حال کلام مخصوص تھا محمد رسول اللہ ﷺ سے۔ اُس وقت میں دوسرے لوگوں کی شرکت کا کوئی سوال نہیں تھا۔ پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان معنوں کا سیاق و سباق سے بھی کوئی جوڑ نہیں ۔ پہلے کہا جاتا ہے ساری دنیا کو تبلیغ کر۔ صلى الله