سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 407
سيرة ة النبي علي صلى الله 392 جلد 7 بھی پکا ارادہ کر چکے ہیں اور تیرے اہل وعیال کو پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر پہنچا کر چھوڑیں گے ۔ گویا وہ خبر اس جگہ آ کر بیان ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ ہم نے کہا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا لیکن ہم اسے خود پورا کریں گے کیونکہ ہم نبی کو جو کچھ کہا کرتے ہیں اس کی ذمہ داری ہم پر ہوتی ہے ۔ اسی طرح سورۃ شعراء میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ وَ انْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ۔ یعنی اے محمد رسول اللہ ! تو اپنے قبیلہ میں سے قریبی رشتہ داروں کو جا کر ہوشیار کر۔ پس ثِيَاب سے مراد اس جگہ وہی لوگ ہیں جو کپڑوں کی طرح ساتھ لیٹے ہوئے ہوتے ہیں اور سورۃ شعراء میں اسی لفظ کو دوسرے رنگ میں ادا کر کے اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے مجازاً ہونے کی تشریح کر دی اور بتا دیا کہ ہماری اس سے یہی مراد ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو انذار قرآن پہنچا دے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پر غور کرنے سے بھی انہی معنوں کی تصدیق ہوتی ہے چنانچہ بخاری کو نکال لو ، دوسری حدیثوں کو نکال لو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلا الہام نازل ہوا تو سب سے پہلے آپ اپنے گھر گئے اور حضرت خدیجہ کو خبر دی کیونکہ ثِيَابَكَ فَطَرْ کا حکم تھا کہ پہلے اسلام کی تعلیم اپنی بیوی اور رشتہ داروں کو دو۔ پھر حضرت علی کو بتایا۔ چنانچہ تاریخ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والی اور سب سے پہلے طہارت کو قبول کرنے والی عورتوں میں سے حضرت خدیجہ تھیں۔ نابالغ جوانوں میں سے حضرت علی تھے اور بالغ جوانوں میں سے حضرت زید تھے وہ بھی لوگوں میں آپ کے بیٹے کے طور پر مشہور تھے اسی طرح عمر کے لوگوں میں سے ابوبکرؓ تھے جو آپ کے جانی اور جوانی کی عمر کے دوست تھے ۔ گویا جس طرح ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ کہا گیا تھا عملاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل اُسی طرح کیا ۔ لیکن کوئی حدیث نکال کر دکھا دو، ضعیف سے ضعیف نکال کر دکھا دو، منافقوں کی بیان کردہ حدیث نکال کر دکھا دو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بڑی