سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 406

سيرة ة النبي علي صلى الله 391 جلد 7 یہ ہیں کہ اے محمد رسول اللہ ! تو پہلے اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو سمجھا، پھر اپنے قریبی دوستوں کو سمجھا ، پھر اپنی قوم والوں کو سمجھا اور ان کو دین اسلام کی تعلیم کی طرف لا ۔ اب دیکھو یہ معنے یہاں چسپاں ہو جاتے ہیں اور آیات کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اے تقر ر گورنری کی خبر سنتے ہی وردی پہن کر کھڑے ہونے والے! اور اس بات کی امید رکھنے والے کہ حکم ملتے ہی میں گھوڑے پر چڑھ جاؤں تیار ہو اور ہمیشہ کے لئے اس کام میں مشغول ہو جا جو ہم نے تیرے سپرد کیا ہے اور سب سے پہلے یہ انذار اپنے گھر سے ، اپنی بیوی سے اور اپنے رشتہ داروں اور بچوں سے شروع کر ۔ اب دیکھ لو یہاں کپڑے دھونے اور انذار کرنے میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ کپڑے دھونا انذار کی تشریح ہے اور ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ سے انذار ختم نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے۔ صابن کے گھت گھت کرنے سے تو انذار ختم ہو جاتا ہے لیکن اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو تبلیغ کرنے سے انذار ہوتا ہے ختم نہیں ہوتا ۔ پس یہ تضاد نہیں بلکہ عین وہی چیز ہے۔ نه قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وَثِيَابَكَ فظهر تو اٹھ اور جا کر اپنی قوم کو سمجھا، اپنے کے عمل سے ثیاب کے معنوں کی تصدیق رشتہ داروں کو سمجھا، اپنے دوستوں اور عزیزوں کو سمجھا۔ چنانچہ ہم قرآن کریم میں اس کی تصدیق دیکھتے ہیں مثلاً بیویوں کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ 7 عورتیں تمہارا لباس ہیں ۔ اب دیکھ لو ان کو ثِياب بتایا گیا ہے۔ پھر اسی آیت میں طہر کا لفظ آتا ہے اور قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق یہی لفظ استعمال کرتا ہے فرماتا ہے اِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرً ا ه - ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے نبوت سے کہہ دیا تھا کہ جا اور اپنے خاندان کو پاک کر ۔ اب ہم تجھ کو کہتے ہیں کہ وہ جو ہم نے حکم دیا تھا اس کا ہم