سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 405
سيرة النبي علي صلى الله 390 جلد 7 لئے یہ بھی مان لیا کہ اُسے ہلایا ، پانی کے چھینٹے دیئے اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا مگر جب وہ تبلیغ کرنے کے لئے نکلا تو ہم نے کہا ٹھہر جا ٹھہر جا کپڑے دھولے تیرے کپڑے بہت میلے کے لئے تو ہم نے جا لے کے لئے کھا تو ہم نے کہا جا گھر جا کپڑے میرے کپڑے ملے ہیں ۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ تبلیغ بھی رہ گئی ۔ گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاکیزہ نفس انسان جن کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایسا ہے کہ اگر اس پر خدائی نور نہ بھی گرتا تب بھی یہ روشن نظر آتا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے بغیر بھی پاکیزہ تھے اس مقدس انسان کے متعلق یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جیسے کوئی پہاڑی گڈریا ہوتا ہے کہ مہینوں اُس کو کپڑے دھونے کی توفیق نہیں ملتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل بھی نَعُوذُ بِالله ویسی ہی تھی ۔ پہلے تبلیغ کا حکم دیا پھر خیال آیا کہ بڑی شرمندگی ہو گی لوگوں کو خیال آئے گا کہ کیسے آدمی کو بھیج دیا اس لئے کہہ دیا کہ کپڑے دھو لے۔ رسول کریم علی کو اپنے رشتہ داروں اب ہم بتاتے ہیں کہ اس کے کیا معنے ہیں۔ لیکن میں یہ بھی کہہ دینا اور دوستوں کو تبلیغ کرنے کا ارشاد چاہتا ہوں کہ یہ خالص میرے معنے نہیں بلکہ بعض پہلے صوفیا نے بھی اس حصہ کے یہ معنے لکھے ہیں پہلے نہیں لکھے لیکن معنے لکھے ہیں۔ ثِيَاب عربی زبان میں لُغَةً تو کپڑوں اور دل کو کہتے ہیں 6 ۔ لیکن محاورہ میں ثیاب اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی کہتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے، اس کے عیب چھپتے ہیں اور وہ اس کے گرد لپٹے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کپڑا لپٹتا ہے ۔ پس استعارہ اور مجاز کے طور پر جیسے لوگ کہتے ہیں فلاں سکندر ہے ، حاتم ہے مجازاً اور استعارہ ثِيَاب کے معنے دوست، رشتہ دار اور قریبی لوگوں کے ہوتے ہیں اور لغةً اس کے معنے کپڑے اور دل کے ہیں۔ دل کے معنے میں اس جگہ معنے نہیں لگاتا لیکن میں کہتا ہوں کہ جو معنے بھی لگاؤ سیاق و سباق کو مد نظر رکھو۔ میرے نزدیک سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے جو معنے بنتے ہیں وہ