سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 404

سيرة النبي علي صلى الله 389 جلد 7 ہونے والے ! اے حکم ملتے ہی گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر دنیا میں دوڑ جانے والے ! اب ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا کا پیغام پہنچانا تیرے سپرد کیا گیا ہے تو دنیا کو بتا کہ اگر مانو گے تو بچو گے نہیں مانو گے تو تباہ ہو جاؤ گے ۔ ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ کی مضحکہ خیز تفسیر چوتھی آیت ہے وَثِيَابَكَ فَطَرْ ۔ مولوی اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ اپنے کپڑے پاک کر ۔ وہ کہتے ہیں نماز جو پڑھنی تھی کپڑے پاک کرنا ضروری تھا گویا صرف نماز کے لئے کپڑے صاف کئے جاتے ہیں۔ انگریزوں نے کبھی کپڑے پاک نہیں رکھے، امریکنوں نے کبھی کپڑے پاک نہیں رکھے جب سے نماز شروع ہوئی ہے اُس وقت سے کپڑے پاک رکھے جانے شروع ہوئے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ان کے نزدیک پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صفائی کی طرف کوئی رغبت نہیں تھی نماز کا حکم آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کپڑے صاف رکھو۔ پھر سوچو کہ ان آیات کا آپس میں جوڑ کیا ہوا ؟ پہلے معنے کئے اوسونے والے اٹھ ! پھر کہا اٹھ اور دنیا میں جاکر انذار کر۔ پھر ساتھ ہی کہہ دیا جا اور کپڑے دھو ۔ اب وہ کپڑے دھوئے کہ انذار کرے۔ دونوں میں جوڑ کیا ہوا ؟ اب یہ مولوی فیصلہ کر لیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ۔ کپڑے دھونے لگتے تھے یا باہر جا کر تبلیغ کرتے تھے؟ غرض ایسی بے جوڑ باتیں کرتے ہیں اور اس قسم کی ہتک آمیز باتیں کرتے ہیں کہ در حقیقت اگر وہ غور کریں تو ان کو معلوم ہو کہ اسلام کے ساتھ ان باتوں کا کوئی تعلق ہی نہیں ۔ ایسی ایسی غیر معقول باتیں کرتے ہیں کہ ہر بری بات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ بھلا کوئی سمجھائے کہ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ کا اس جگہ جوڑ کیا بنتا ہے۔ اگر پہلی آیت کے یہ معنے ہیں کہ اے کمبل لے کر سونے والے! تو یہ اگلے معنے نہیں لگتے کہ اٹھ اور دنیا میں شور مچا دے۔ کمبل لے کر سونے والے نے شور کیا مچانا ہے وہ تو پھر سو جائے گا۔ مگر تھوڑی دیر کے