سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 403

سيرة النبي علي صلى الله 388 جلد 7 قُمْ فَانْذِرُ کی تشریح آگے آتا ہے قُمْ فَانْذِرْ اس کے معنے وہ یہ کرتے ہیں کہ کھڑا ہو جا اور انذار کر۔ حالانکہ جو کمبل لے کر ہو جا او سویا پڑا ہے اُس کے سپرد کوئی عقلمند کام ہی کیوں کرے گا ۔ وہ تو کہے گا کہ اگر وہ سویا ہوا ہے تو سویا ہی رہے ۔ قُمْ فَانْذِرُ کے الفاظ تو بتا رہے ہیں کہ جس کے سپرد کام کیا جاتا ہے وہ اپنے اندر کوئی شان رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کوئی عزم رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کوئی پختہ ارادہ رکھتا ہے ۔ وہ قسم کا لفظ لے لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے معنے کھڑے ہو جانے کے ہیں حالانکہ جس طرح مدثر کے دو معنے ہیں اسی طرح عربی زبان میں قسم کے بھی دو معنے ہیں ۔ قم کے معنے کھڑے ہونے کے بھی ہیں اور قم کے معنے کسی بات پر ہمیشہ کے لئے قائم ہو جانے کے بھی ہیں ۔ انہوں نے پہلے کمبل کے معنے کئے پھر کہا اوسونے والے ! کھڑا ہو جا۔ ہم نے یہ معنے کئے ہیں کہ اے وہ شخص جو عہدہ کے مطابق وردی پہنے تیار کھڑا ہے کہ حکم ملتے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے کام پر چلا جاؤں قم ہمیشہ کے لئے اپنے کام پر لگ جا اور کبھی بھی اپنے کام میں سستی مت دکھا ئیو اور اور کبھی بھی اپنے کام سے غفلت مت کیجیؤ ۔ فَانْذِرُ اب ہمیشہ ہمیش کے لئے انذار کا مقام اور نبوت کا کام تیرے سپرد کر دیا گیا ہے اب کوئی پنشن نہیں کوئی چھٹی نہیں ۔ ساری عمر کے لئے یہ کام تیرے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ربَّكَ فَكَبِّرُ فکبر کا پہلی آیات سے تعلق تیسری آیت ہے وَرَبَّكَ فَكَبَرْ اور اپنے رب کی بڑائی کا دنیا میں ڈھنڈورا پیٹ ۔ اب اس آیت کو ذرا یت کو ذرا پہلی آیت یت سے ملاؤ کہ ارے ارے سوئے ہوئے ! ارے کمبل اوڑھ کر لیٹے ہوئے ! ارے نیند کے ماتے 5 اٹھ ! ڈھنڈورا پیٹ ۔ بھلا نیند والے نے کیا ڈھنڈورا پیٹنا ہے۔ محض بے جوڑ معنے ہیں جن کا پہلی آیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ لیکن میں نے جو معنے کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اے ور ہیں کہ اے وردی پہن کر کھڑے