سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 402
سيرة النبي علي صلى الله 387 ہے کہ وہ ہمیشہ اس کے اچھے معنے کرتا ہے اور پھر بھی وہ مولوی کہلاتا ہے۔ جلد 7 یہ درست ہے کہ مدثر کے ایک معنی کمبل ا ل اوڑھ کر سونے والے کے مد کے معنی یہ در بھی ہیں مگر مدثر کے ایک اور معنی بھی ہیں جو اچھے ہیں اور اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ نہیں سوجھتے اور وہ معنے ہیں کپڑے پہن کر تیار ہو جانے والا اور گھوڑے کے پاس کھڑا ہونے والا کہ حکم ملتے ہی فوراً چھلانگ مار کر اس پر سوار ہو جائے 3۔ یہ بھی لغت میں لکھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ دثار کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے معنے ہیں اَلثَّوْبُ الَّذِى فَوْقَ الشَّعَارِ 4 یعنی دثار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو کرتہ وغیرہ کے اوپر پہنا جائے ۔ جب انسان نے باہر جانا ہوتا ہے تو وہ خالی کرتہ نہیں پہنتا بلکہ کوٹ پہنتا ہے۔ یا فوج والے لڑنے کے لئے جاتے ہیں تو وردی پہن لیتے ہیں۔ پس اس کے معنے یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وردی پہنی ہوئی ہے۔ ان مفسرین کو یہ تو نظر آتا ہے کہ مدثر کے معنے کمبل اوڑھ کر سونے والے کے ہیں مگر یہ نظر نہیں آتا کہ اس کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ اے وردی پہن کر کھڑے ہونے والے انسان ۔اسی طرح اس کے دوسرے معنے گھوڑے پر چھلانگ لگا کر چڑھنے والے کے ہیں گویا وہ اس بات کے انتظار میں کھڑا ہے کہ حکم ملے تو گھوڑے پر چھلانگ لگا کر سوار ہو جاؤں اور کام کے لئے دوڑ پڑوں ۔ اب ان معنوں کو دیکھو اور کمبل اوڑھ کر سو رہنے والے معنوں کو دیکھو کیا ان دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے؟ کیا وہ دربار معلوم ہوتا ہے اور دربار بھی وہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تقرر کے لئے منعقد ہوا۔ پیچھے مایوسی ہو جائے تو اور بات ہے لیکن یہاں تو ابتدا میں ہی نَعُوذُ بِاللهِ گالیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ اوسونے والے! تیری کام کی طرف توجہ ہی نہیں ، میل سے بھرا ہوا ہے اٹھ ! اور تیار ہو اور اپنے کام کی طرف جا اور ہر قسم کے سستی اور شرک وغیرہ کو چھوڑ ۔