سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 401
صلى الله سيرة النبي علي ة 386 جلد 7 جگاتے ہیں کہ اٹھ میاں ! یہ سونے کا وقت ہے۔ تجھے کام پر بھیجنا تھا تیری خاطر در بار خاص لگایا تھا اور تو کمبل لے کر سو رہا ہے۔ اٹھ ! اٹھ کے کمبل اتار، کپڑے دھو ، غسل کر ، شرک چھوڑ دے ، سودخوری نہ کر اور مصیبتیں برداشت کر ۔ یہ دربار ہے جس کا نقشہ ہمارے سامنے کھینچا جاتا ہے ۔ بھلا جو معمولی معمولی ریاستیں ہیں مثلاً شملہ کی ریاستیں جو پانچ پانچ سات سات ہزار آبادی کی ہیں کیا تم نے کبھی وہاں بھی ایسا در بار دیکھا کہ راجہ نے کسی کو بلایا ہو اور جس کے اعزاز میں دربار منعقد کیا گیا ہو اُس کی یہ حالت ہو کہ وہ کمبل میں سو رہا ہے اور اتنی میل چڑھی ہوئی ہے کہ حد نہیں ۔ کپڑوں سے بدبو آ رہی ہے، پاجامے سے بد بو آ رہی ہے، راجہ آ کر جگاتا ہے اور جگانے کے بعد کچھ ملامت کرتا ہے اور ملامت کر کے کہتا ہے تیرے سپر د فلاں کام کیا جاتا ہے مگر ایسے گند میں باہر جانا بھی ٹھیک نہیں پہلے کپڑے دھولے غسل کرلے اور پھر جا کر یہ کام کر ۔ یہ دربار ہے جو غیر احمدی پیش کرتے ہیں ۔ حقیقی دربار کی جھلک اب میں وہ دربار پیش کرتا ہوں جو حقیقتا قرآن کا دربار ہے اور جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم سے ہمیں سمجھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ - دِثار کے ایک معنی عربی زبان میں اُس کپڑے کے ہوتے ہیں جو سوتے وقت او پر لیا جاتا ہے 2 مثلاً کمبل ، لوئی یا لحاف وغیرہ اور لوگوں نے یہاں یہی معنے مراد لئے ہیں ۔ مگر جب مدثر کہا جائے گا تو لغت کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ کمبل یا لوئی اوڑھ کر بھی سو رہا ہے۔ کئی لوگ لوئیاں لے کر تو یہاں بھی بیٹھے ہیں مگر وہ جاگ رہے ہیں ۔ مد تر تب کہا جائے گا جب کوئی لوئی لے کر سو رہا ہو۔ لیکن آج کل کے مولوی کی یہ حالت ہے کہ ادھر تو ہمیں کفر کا فتوی دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور اُدھر قرآن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی لفظ استعمال ہو تو یہ ہمیشہ اس کے برے معنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لیتا ہے اور عیسی کی نسبت وہی لفظ آجائے تو خیر ۔ معلوم نہیں عیسی اس کا کیا لگتا