سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 396

سيرة ة النبي علي صلى الله 381 جلد 7 یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن اور خدا کا دشمن ۔ بے شک تیرا کٹھا چلتا تھا مگر دشمن دو تھے پھر وہ دونوں ایک ہو گئے یعنی قوسیں بھی ایک بن گئیں اور ہاتھ بھی ایک بن بن گیا تیر بھی ایک بن گیا اور دشمن بھی ایک بن گیا۔ اسی کی طرف دوسری جگہ قرآن کریم میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمَى ، یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اور تو دونوں اس طرح اکٹھے ہو چکے ہیں کہ تو نے جو بدر کی جنگ میں پتھر پھینکے تھے وہ تو نے نہیں پھینکے بلکہ ہمارا ہاتھ تھا جو ان کو پھینک رہا تھا۔ گویا پہلا اتحاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا کے درمیان یہ ہوا کہ دو قوسوں سے ایک تیر چلنا شروع ہوا اور پھر آخری اتحاد قوسوں کا آپس میں مدغم ہو جانا اور پھر ہاتھوں کا بھی آپس میں مدغم ہو جانا تھا گویا ہا تھ بھی ایک ہو گئے ، قوس بھی ایک ہو گئی ، دشمن بھی ایک ہو گیا اور تیر بھی ایک ہو گیا ۔ عجیب در بار یہ کیسا عجیب در بار ہے کہ ابھی کام شروع بھی نہیں کیا اور پہلے ہی دوستانہ تعلق اور پیار ہو گیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ دنیوی بادشاہ جب کسی کو جرنیل مقرر کرتے ہیں تو کہتے ہیں معلوم نہیں وہ شکست کھا کر آتا ہے یا فتح حاصل کر کے؟ پہلے پتہ تو کر لینے دو۔ مگر یہ دربار ایسا ہے جس میں بادشاہ کو پہلے ہی یہ پتہ ہوتا ہے کہ میرا جرنیل جیت کر آئے گا اس لئے اگر اسے پہلے سے ہی انعام دے دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں بہر حال اسی نے جیتنا ہے ۔ بادشاہوں کے خلاف درباریوں کی سرگوشیاں پھر ہم دنیوی بادشاہوں کے دربار میں جا کر دیکھتے ہیں تو وہاں بعض دفعہ عجیب تماشا نظر آتا ہے۔ بادشاہ بیٹھا ہوا ہوتا ہے اور دور کناروں پر لوگ آپس میں کھسر پھسر کر رہے ہوتے ہیں کہ فلاں جس کو بادشاہ نے منہ چڑھایا ہوا ہے بڑا خبیث آدمی ہے ۔ دیکھنا کسی دن بادشاہ سے دھوکا کر کے رہے گا ۔ یہ فلاں