سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 395
سيرة النبي علي صلى الله 380 جلد 7 دوسری جگہ عام انسانوں کے متعلق بھی خدا تعالیٰ کا یہ فعل موجود ہے چنانچہ فرماتا ہے لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ 5 ابصار خدا تک نہیں پہنچتیں کیونکہ وہ ناکام رہ جاتی ہیں مگر خدا خود لوگوں کی آنکھوں تک پہنچ جاتا ہے۔ قَابَ قَوْسَینِ کا نظارہ غرض محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وسم کو بلایا گیا اور آپ اس کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلے مگر جب چلے تو اللہ تعالیٰ اپنی محبت کے جذبہ میں اپنی جگہ پر نہ ٹھہرا بلکہ آپ نیچے اتر آیا۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنی اور اُس نے اتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم تجھے اپنا گورنر بنانا چاہتے ہیں مگر ہماری گورنری ایسی نہیں ہوتی جیسی دنیا کی گورنریاں ہوتی ہیں ہم تجھے گورنر بھی بنانا چاہتے ہیں اور اپنا دوست بھی بنانا چاہتے ہیں ۔ اب ہم دونوں کی قوسیں ایک ہو گئی ہیں ۔ اے محمد ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کچھ تیرے بھی دشمن ہوں گے اور کچھ میرے بھی دشمن ہوں گے آخر ہر ایک کے دشمن ہوتے ہیں کچھ میرے بھی دشمن ہیں یعنی توحید کے منکر اور کچھ تیرے بھی دشمن ہیں یعنی انسانیت اور اخلاق اور شرافت کے دشمن ۔ تجھے بھی ضرورت ہے ان پر تیر چلانے کی اور مجھے بھی ضرورت ہے اپنے دشمنوں پر تیر چلانے کی ۔ پس آ! ہم دوست بنتے ہیں اب ہم دونوں اپنی کمانیں جوڑ لیتے ہیں اور ان دونوں کمانوں کا ایک ہی وتر ہوگا یعنی وہ تار جو کمان میں ہوتی ہے ایک ہوگی اور پھر تیرا تیر بھی اور میرا تیر بھی اکٹھا ایک ہی طرف چلے گا۔ یہ کتنی دوستی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اظہار فرمایا۔ مقام محمدیت کی بلندی پھر فرماتا ہے فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنی ۔ أَوْ عربی زبان میں یا کے معنے بھی دیتا ہے اور ترقی کے معنی بھی دیتا ہے گویا پہلے تو تیرا تیر بھی اور میرا تیر بھی ایک طرف چلتا تھا مگر پھر اس سے بھی ترقی ہوئی اور وہ ترقی یہ ہے کہ پہلے تو دو قوسیں تھیں اور دشمن بھی دو ہی تھے