سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 394

سيرة النبي علي 379 جلد 7 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب ہم اس دربار خاص کا ذکر کرتے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا الہی دربار میں شاندار اعزاز کے اعزاز کے لئے منعقد ہوا اور جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے انتہائی قرب کے مقام کو ظاہر کیا اور بتایا کہ آپ کو دوسرے درباریوں پر کیا فضیلت حاصل ہے۔ پہلے اُس دربار کا ذکر کیا گیا تھا جس میں آپ کا انتخاب کا انتخاب عمل میں لایا جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم آپ کو اس منصب پر مقرر کر رہے ہیں اب اسی دربار کے دوسرے حصہ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کا کتنا بڑا اعزاز کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ نجم میں فرماتا ہے وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى - فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی 4 یعنی بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا اور پھر وہ درباری اس کے قریب ہوا جس کے بعد بادشاہ اپنے عرش سے اتر کر اُس کے پاس آ گیا اور اتنا سے اُس کے قریب ہو گیا کہ یوں نظر آتا تھا جیسے دو قوسیں آپس میں ملا کر کھڑی کر دی گئی ہیں ۔ گویا دربار لگا بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا اور اُس نے اپنے اس درباری کو بلایا جس کے لئے دربار خاص منعقد کیا گیا تھا اور حکم بھیجا کہ ہمارے دربار میں حاضر ہو جاؤ ہم تمہارا اعزاز کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں تک تو باقی بادشاہوں سے بات ملتی ہے لیکن دنیا کے درباروں میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کو کسی عہدے پر مقرر کیا جاتا ہے وہ کھسک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس کا اہل نہیں ۔ لیکن اس دربار کے متعلق فرماتا ہے کہ خدائی حکم کے ملتے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے قریب ہو گئے اور دوسرے درباروں کے خلاف جن میں بادشاہ اپنی جگہ سے کھسکتا نہیں خدا تعالیٰ عرش عظیم سے اتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور اتنا قریب ہوا کہ یوں نظر آتا تھا گویا دو قوسیں آپس میں ملا کر کھڑی کر دی گئی ہیں۔