سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 393
صلى الله سيرة النبي علي 378 جلد 7 یہاں یہ سوال رہ جاتا ہے کہ فرشتوں ملائکہ کا شیطانی عنصر سے اختصام ان کا کیوں ہوتا لفظ کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ کیا جھگڑا کرتے تھے؟ صوفیاء نے اس پر بحث کی ہے کہ اختصام کیا تھا مگر وہ اس مضمون کو اس طرح بیان نہیں کرتے جس طرح میں نے بیان کیا ہے ورنہ شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی اس مضمون کو لیا ہے اور پرانے صوفیاء نے بھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ فرشتوں میں یہ سوال اٹھتا ہے تو وہ یہ بخشیں کرتے ہیں کہ کون مستحق ہے اور کون نہیں ؟ مگر میرے نزدیک یہ غلط ہے جھگڑا تب ہوتا جب اختلاف ہوتا یا ووٹنگ والا سسٹم ہوتا مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں فرشتے تاثرات کو قبول کرتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ان کی توجہ ایک روح پر مرکوز ہو جاتی ہے اور چونکہ الہی منشا بھی وہی ہوتا ہے اس لئے الہی حکم صادر ہو جاتا ہے اور وہ دنیا میں نافذ ہو جاتا ہے مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ يَخْتَصِمُونَ کا لفظ کیوں آیا ہے؟ سو یا د رکھنا چاہئے کہ میرے نزدیک یہاں يَخْتَصِمُونَ کا ذکر اس رسول کے متعلق نہیں یعنی یہ نہیں کہ فرشتے اس رسول کے متعلق جھگڑ رہے تھے کہ یہ رسول بنے یا وہ بنے بلکہ وہ اس شیطانی عنصر کے ساتھ جھگڑ رہے تھے جس نے اس رسول کی مخالفت کرنی تھی گویا فرشتوں نے جب وجود محمدی میں نورا الہی دیکھنا شروع کیا تو فوراً شیطانی طاقتیں جو راستہ میں حائل ہونے کے لئے جمع ہو رہی تھیں ان سے انہوں نے جھگڑنا شروع کر دیا پس يَخْتَصِمُونَ کا لفظ رسالت کے متعلق نہیں بلکہ یہ اختصام شیطانوں کے متعلق ہے اور انہی کے ساتھ ان کا سارا جھگڑا ہے۔ پر يَخْتَصِمُونَ کے معنے یہ ہیں کہ جوں جوں اُنہیں پتہ لگتا چلا جاتا ہے کہ فلاں شخص اس عہدہ کے قابل ہے شیطانی طاقتیں جو مقابل میں کھڑی ہوتی ہیں ان سے لڑائی شروع کر دیتی ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آخری جنگ میں شیطانی طاقتیں شکست کھا جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم ہو جاتی ہے۔