سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 392
سيرة ة النبي علي صلى الله 377 جلد 7 ہیں۔ جب وہ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خدمت کے لئے مقرر کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہے اسے ضرورت نہیں کہ وہ ایسا کرے لیکن چونکہ اُس نے فرشتوں سے خدمت لینی ہوتی ہے اس لئے ان کے اندر بشاشت پیدا کرنے اور محبت پیدا کرنے اور ہمدردی پیدا کرنے کے لئے اُس نے یہ طریق رکھا ہے کہ وہ پہلے فرشتوں کو غور کرنے کا موقع دیتا ہے تا کہ وہ سمجھیں کہ ان کا بھی انتخاب میں حصہ ہے اس کے بعد حکم نازل ہوتا ہے اور وہ چونکہ ان کے منشا کے ماتحت ہوتا ہے اس لئے ان کی تسلی ہو جاتی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقُبُولُ فِي الْأَرْضِ 3 پھر ایسے انسان کی قبولیت دنیا میں پھیلا دی جاتی ہے اور لوگ اس کو ماننے لگ جاتے ہیں ۔ اس سے پتہ لگ گیا کہ درحقیقت وہ قابلیت کی بنا پر ہی نبی ہوتا ہے اگر قابلیت کی بنا پر نہ ہوتا تو ملا اعلیٰ کے دنیا سے معلومات حاصل کرنے کے کیا معنے ؟ پھر تو خدا آسمان پر بیٹھا ہوا کہہ دیتا فلاں نبی بن جائے اور وہ بن جاتا ۔ بہر حال ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ واقعہ پیدائش انسانی کے بعد کا تھا اور سلسلۂ نبوت کے جاری ہونے کے بعد کا تھا کیونکہ اس آیت میں فرشتوں کا جو سوال تھا اس کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ جہاں آدم اول کی پیدائش کا ذکر ہے وہاں اس سوال کا بھی ذکر ہے کہ آپ کیوں پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر یہاں یہ وہ سوال نہیں کرتے کیونکہ وہ سوال ایک دفعہ ہو چکا اور حل ہو چکا اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے موقع پر کوئی وجہ نہیں تھی کہ پھر دوبارہ وہی سوال کیا جاتا کیونکہ ملائکہ کا رجحان خود وجود محمدی کی طرف آپ کی بعثت سے پہلے ہو چکا تھا۔ اب خدا نے بتا دیا کہ ہم اس شخص کو نبی بنانے لگے ہیں جب ہم نبی بنائیں اور یہ اُس عمر کو پہنچ جائے کہ خدا کی وحی اس پر نازل ہونے لگے تو فوراً اس کے کام میں مدد دینے کے لئے کھڑے ہو جانا اور وہ کہتے ہیں آمَنَّا وَصَدَّقْنَا ۔