سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 390
سيرة ة النبي علي صلى الله 375 جلد 7 پیدائش کا مقصد ہیں وہ آدمی کہاں ہیں ۔ اب آدمی وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے کیونکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہے باقی صرف جانوروں کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ خدا سے دور ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی جو آدم کا نام دیا گیا ہے وہ بھی اسی کو آدم قرار دینے میں حکمت لئے ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے خاتم الخلفاء قرار دیا گیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اب جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنا چاہے اُس کے لئے آپ کی غلامی اختیار کرنا ضروری ہے۔ جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص خدا تک پہنچنا چاہے تو وہ نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے کیونکہ اب وہی نسل سمجھی جاتی ہے ۔ باقیوں کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہیں ہی نہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد وہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے متبع سمجھے جائیں گے جو مسیح موعود کو مانتے ہیں اسی لئے آپ کا نام بھی آدم رکھا گیا۔ بہر حال ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں اور میرے ساتھ بہت بڑے واقعات وابستہ ہیں۔ میں عالم روحانی کی مکمل سکیم کے ماتحت پیدا کیا گیا ہوں اور جب در بار خاص میں فرشتے بحث کر رہے تھے تو میں اُس وقت موجود نہ تھا۔ اس دربار میں مجھے چنا گیا اور آسمانی بادشاہت کے دشمنوں کے خلاف مجھے نذیر یعنی کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا۔ ملا اعلیٰ کے فرائض ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سعید روحوں کے اثرات آسمان پر جمع ہونے شروع ہوتے ہیں اور الہی احکام کے نازل ہونے سے پہلے ملائکہ بھی فطرتاً ایک معین وجود کی طرف مائل ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے دعا کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے ہدایت کے کام کو آسان کرنے کے لئے اس وجود کو مقرر فرما۔ گویا ملائکہ کے جہاں اور کام ہیں وہاں جیسے