سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 389

صلى الله سيرة النبي علي 374 جلد 7 مانگتا ان دونوں کا آپس میں جوڑ کیا ہوا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آدم سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ قرآنی اصطلاح میں آدم سے مراد در حقیقت قرآن کریم میں آدم کا جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ خالی ایک نام نہیں بلکہ آدم ایک عہدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کیا جاتا ہے ۔ اس عہدہ کے لحاظ سے جو آدمی بھی اس پر مقرر ہو جائے وہ آدم کہلاتا ہے اور قرآن کریم کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہدہ اُس شخص کو دیا جاتا ہے جس سے کسی چیز کی ابتدا ہو۔ جب کوئی ایسا سلسلہ قائم کیا جائے کہ جس نے قیامت تک جاری رہنا ہو اور اس سے متواتر تنوع پیدا ہونا ہو اور نئی نسلیں پیدا ہوئی ہوں تو اُس کا نام آدم رکھا جاتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدم اول دور بشری کا آدم تھا جس سے نسل انسانی چلی اور کروڑوں کروڑ بھی ایک عظیم الشان آدم ہیں آدمی اس دنیا میں پھیل گئے ۔ اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک آدم تھے جن سے ایک روحانی نسل کا آغاز ہوا۔ جس طرح آدم کے پیدا ہونے کے بعد جن اور بھوت وغیرہ سب غائب ہو گئے اور انسانی نسل چل پڑی اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کے بعد پہلے سارے نبیوں کی نسلیں ختم ہو گئیں اور وہ بے اولاد ہو گئے گویا بعینہ اسی طرح ہوا جس طرح وہاں ہوا تھا۔ جس طرح وہاں صرف آدم کی نسل چلی اسی طرح یہاں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی نسل چلی اور باقی نسلیں منقطع ہو گئیں ۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ کس طرح درست ہو سکتا ہے آدمی تو دنیا میں کروڑوں کروڑ پھرتے ہیں ان کی نسلیں منقطع کس طرح ہوئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی وہ ہوتے اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی وہ ہوتے ہیں جو زندہ ہوں ۔ جن کے اندر روحانیت نہیں ، جن کے اندر خدا کا خوف نہیں ، جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ، جن کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں حالانکہ یہی باتیں انسان کی