سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 388
صلى الله سيرة النبي علي 373 جلد 7 تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ - قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ۔ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ - وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ 1 - اس جگہ پھر ایک آدم کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے مگر جیسا کہ سیاق وسباق سے ظاہر ہے یہ آیات قطعی طور پر ثابت کرتی ہیں کہ یہاں وہ آدم مراد نہیں جس سے نسل بشر کا آغاز ہوا بلکہ اس جگہ آدم سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے چنانچہ دیکھو ان آیات کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرُ وَمَا مِنْ إِلَهِ إِلَّا اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۔ تو ان سے کہہ دے کہ میں خدا کی طرف سے ایک تنبیہ کرنے والے کی حیثیت سے آیا ہوں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ واحد اور قہار ہے ۔ اس کے بعد فرماتا ہے وہ آسمان اور زمین کا رب ہے اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان کا ان کا بھی رب ہے اور وہ بڑا غالب اور بخشنے والا اغالب اور بخشنے والا ہے ۔ تو کہہ دے کہ یہ ایک عظیم الشان چیز ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو اور مجھے کیا خبر ہے کہ فرشتے آسمان پر کس کے تقرر کے بارہ میں بخشیں کر رہے تھے مجھے آسمان سے وحی آ گئی اور پتہ لگ گیا کہ میں خدا کی طرف سے نذیر ہوں ۔ دیکھو! جب خدا نے فرشتوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ میں ایک بہت بڑے انسان کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کو پیدا کرلوں اور وہ اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جائے اور کلام الہی اس پر نازل ہو جائے تو تم فوراً اُس کی مدد کرنے لگ جاؤ۔ اب دیکھو یہاں کسی پہلے آدم کا یا پیدائش عام کا ذکر نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ان کی بعثت کا ذکر ہے اور پھر جہاں یہ ذکر ختم ہوتا ہے وہاں بھی ان باتوں کو بیان کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ یعنی خدا نے کہا اور میں مقرر ہو گیا ۔ میں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ۔ اگر ابو البشر آدم کا یہاں ذکر ہوتا تو آدم کو کہنا چاہئے تھا کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے مگر بنایا آدم کو اور کہہ رہے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں