سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 39
صلى الله سيرة النبي علي 24 جلد 7 پڑکا ڈال کر لوگوں نے کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں ۔ اتنے میں حضرت ابوبکر وہاں آگئے اور اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے چھڑایا کہ اے لوگو ! کیا تم ایک آدمی کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میرا آقا ہے 24 ۔ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھڑی لا کر رکھ دی گئی اور اس کے بوجھ سے اُس وقت تک آپ سر نہ اٹھا سکے جب تک بعض لوگوں نے پہنچ کر اُس اوجھڑی کو آپ کی پیٹھ پر سے ہٹایا نہیں 25 ۔ ایک دفعہ آپ بازار سے گزر رہے تھے تو مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپ کے گرد ہو گئی اور رستہ بھر آپ کی گردن پر یہ کہہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو! یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ میں نبی ہوں ۔ آپ کے گھر میں اردگرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے تھے۔ باورچی خانہ میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں جن میں بکروں اور اونٹوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جب آپ نماز پڑھتے تو آپ کے اوپر گردو غبار ڈالی جاتی حتیٰ کہ مجبور ہو کر آپ کو چٹان میں سے نکلے ہوئے ایک پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی ۔ مگر یہ مظالم بیکار نہ جا رہے تھے۔ شریف الطبع لوگ ان کو دیکھتے اور اسلام کی طرف اُن کے دل کھنچے چلے جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خانہ کعبہ کے قریب صفا پہاڑی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو جہل آپ کا سب سے بڑا دشمن اور مکہ کا سردار وہاں سے گزرا اور اُس نے آپ کو بے نقط گالیاں دینی شروع کیں ۔ آپ اُس کی گالیاں سنتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے ۔ آپ کے خاندان کی ایک لونڈی اس واقعہ کو دیکھ رہی تھی ۔ شام کے وقت آپ کے چچا حمزہ جو ایک نہایت ہی دلیر اور بہادر آدمی تھے اور جن کی بہادری کی وجہ سے شہر کے لوگ اُن سے خائف تھے شکار کھیل کر جنگل سے واپس آئے اور کندھے کے ساتھ کمان لٹکائے ہوئے نہایت ہی