سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 40
سيرة النبي علي صلى الله 25 جلد 7 تبختر 26 کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوئے ۔ لونڈی کا دل صبح کے نظارہ سے بے حد متاثر تھا۔ وہ حمزہ کو اس شکل میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکی اور انہیں طعنہ دے کر کہا تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو، ہر وقت اسلحہ سے مسلح رہتے ہو مگر کیا تمہیں معلوم ہے کہ صبح ابو جہل نے تمہارے بھتیجے سے کیا کیا ؟ حمزہ نے پوچھا کیا کیا ؟ اُس نے وہ سب واقعہ حمزہ کے سامنے بیان کیا۔ حمزہ گو مسلمان نہ تھے مگر دل کے شریف تھے ۔ اسلام کی باتیں تو سنی ہوئی تھیں اور یقیناً اُن کے دل پر ان کا اثر ہو چکا تھا مگر اپنی آزاد زندگی کی وجہ سے سنجیدگی کے ساتھ اُن پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن اس واقعہ کو سن کر اُن کی رگِ حمیت جوش میں آگئی ۔ آنکھوں پر سے غفلت کا پردہ دور ہو گیا اور انہیں یوں معلوم ہوا کہ ایک قیمتی چیز ہاتھوں سے نکلی چلی جا رہی ہے۔ اُسی وقت گھر سے باہر آئے اور خانہ کعبہ کی طرف گئے جو رؤسا کے مشورے کا مخصوص مقام تھا۔ اپنی کمان کندھے سے اتاری اور زور سے ابو جہل کو ماری اور کہا سنو ! میں بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کو اختیار کرتا ہوں ۔ تم نے صبح اُسے بلا وجہ گالیاں دیں اس لئے کہ وہ آگے سے جواب نہیں دیتا ۔ اگر بہادر ہو تو اب میری مار کا جواب دو۔ یہ واقعہ ایسا اچانک ہوا کہ ابو جہل بھی گھبرا گیا۔ اُس کے ساتھی حمزہ سے لڑنے کو اٹھے لیکن حمزہ کی بہادری کا خیال کر کے اور اُن کے قومی جتھا پر نظر کر کے ابو جہل نے خیال کیا کہ اگر لڑائی شروع ہو گئی تو اس کا نتیجہ نہایت خطرناک نکلے گا اس لئے مصلحت سے کام لے کر اُس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ چلو جانے دو میں نے واقعہ میں اس کے بھتیجے کو بہت بری طرح گالیاں دی تھیں 27 ۔ جب مخالفت تیز ہوگئی اور ادھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جب ما پیغام اسلام آپ کے صحابہؓ نے اصرارت مکہ والوں کو خداتعالی کا یہ پیغام پہنچانا شروع کیا کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے ، اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ جس قدر نبی گزرے ہیں سب ہی اُس کی توحید کا اقرار کیا کرتے تھے اور