سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 38
سيرة النبي علي صلى الله 23 جلد 7 کوئی حرج نہیں ۔ اس اجازت کے ساتھ وہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس چلے اور دل میں فیصلہ کر لیا کہ کچھ عرصہ تک میں اپنے حالات کو درست کرلوں گا تو اپنے اسلام کو ظاہر کروں گا۔ جب وہ مکہ کی گلیوں میں سے گزر رہے تھے تو اُنہوں نے دیکھا کہ رؤسائے مکہ اسلام کے خلاف گالی گلوچ کر رہے ہیں۔ کچھ دنوں کے لئے اپنے عقیدہ کو چھپائے رکھنے کا خیال اُن کے دل سے اُسی وقت محو ہو گیا اور بے اختیار ہو کر اُ نہوں نے اس مجلس کے سامنے یہ اعلان کیا اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں ۔ دشمنوں کی اس مجلس میں اس آواز کا اٹھنا تھا کہ سب لوگ ان کو مارنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور اتنا مارا کہ وہ بیہوش ہو کر جاپڑے لیکن پھر بھی ظالموں نے اپنے ہاتھ نہ کھینچے اور مارتے ہی چلے گئے ۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس جو اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے وہاں آگئے اور اُنہوں نے ان لوگوں کو سمجھایا اور کہا کہ ابوذر کے قبیلہ میں سے ہو کر تمہارے غلے کے قافلے آتے ہیں اگر اُس قوم کو غصہ آگیا تو مکہ بھوکا مر جائے گا۔ اس پر اُن لوگوں نے اُن کو چھوڑ دیا۔ ابوذر نے ایک دن آرام کیا اور دوسرے دن پھر اُسی مجلس میں پہنچے۔ وہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف باتیں کرنا روزانہ کا شغل تھا۔ جب یہ خانہ کعبہ میں گئے تو پھر وہی ذکر ہورہا تھا۔ اُنہوں نے پھر کھڑے ہو کر اپنے عقیدہ توحید کا اعلان کیا اور پھر اُن لوگوں نے اُن کو مارنا پیٹنا شروع کیا ۔ اسی طرح تین دن ہوتا رہا 23 ۔ اس کے بعد یہ اپنے قبیلہ کی طرف چلے گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مظالم خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکی ذات بھی محفوظ نہ تھی۔ طرح طرح ح طرح سے آپ کو دکھ دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ آپ عبادت کر رہے تھے کہ آپ کے گلے میں