سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 37

سيرة النبي علي صلى الله 22 جلد 7 میں تمہارے ساتھ ہوں اور یہ سب ظلم اُن ظلم اُن کے لئے راحت ہو۔ نت ہو جاتے تھے ۔ گالیاں دعائیں بن کر لگتی تھیں ۔ پتھر مرہم کے قائم مقام ہو جاتے تھے۔ مخالفتیں بڑھتی گئیں مگر ایمان بھی ساتھ ہی ترقی کرتا گیا۔ ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا مگر اخلاص بھی تمام گزشتہ حد بندیوں سے اوپر نکل گیا۔ آزاد مسلمانوں پر ظلم آزاد مسلمانوں پربھی کچھ کم ظلم نہیں ہوتے تھے۔ اُن کے بزرگ اور خاندانوں کے بڑے لوگ اُنہیں بھی قسم قسم کی تکلیفیں دیتے تھے۔ حضرت عثمان چالیس سال کی عمر کے قریب تھے اور مالدار آدمی تھے مگر باوجود اس کے جب قریش نے مسلمانوں پر ظلم کرنے کا فیصلہ کیا تو اُن کے چا حکم نے اُن کو رسیوں سے باندھ کر خوب پیٹا 21 ۔ زبیر بن العوام ایک بہت بڑے بہادر نوجوان تھے ۔ اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں وہ ایک ز بر دست جرنیل ثابت ہوئے۔ ان کا چا بھی اُن کو خوب تکلیفیں دیتا تھا۔ چٹائی میں لپیٹ دیتا تھا اور نیچے سے دھواں دیتا تھا تا کہ اُن کا سانس رک جائے اور پھر کہتا تھا کہ کیا اب بھی اسلام سے باز آؤ گے یا نہیں؟ مگر وہ ان تکالیف کو برداشت کرتے اور جواب میں یہی کہتے کہ میں صداقت کو پہچان کر اُس سے انکار نہیں کر سکتا 22۔ حضرت ابوذر غفار قبیلہ کے ایک آدمی تھے وہاں اُنہوں نے سنا کہ مکہ میں کسی شخص نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعوی کیا ہے۔ وہ تحقیقات کے لئے مکہ آئے تو مکہ والوں نے انہیں ورغلایا اور کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو ہمارا رشتہ دار ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ اُس نے ایک دکان کھولی ہے۔ مگر ابوذر اپنے ارادہ سے باز نہ آئے اور کئی تدابیر اختیار کر کے آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم بتائی اور آپ اسلام لے آئے ۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ اگر میں کچھ عرصہ تک اپنی قوم کو اپنے اسلام کی خبر نہ دوں تو کچھ حرج تو نہیں؟ آپ نے فرمایا اگر چند دن خاموش رہیں تو