سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 36

صلى الله سيرة ة النبي علي 21 جلد 7 میں تو ایک غیر متزلزل ایمان محسوس کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا اگر دل ایمان پر مطمئن تھا تو خدا تعالیٰ تمہاری کمزوری کو معاف کر دے گا 16 ۔ پاس آپ کے والد یا سر اور آپ کی والدہ سمیہؓ کو بھی کفار بہت دکھ دیتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ جبکہ ان دونوں کو دکھ دیا جا رہا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے سے گزرے ۔ آپ نے ان دونوں کی تکلیفوں کو دیکھا اور آپ کا دل درد سے بھر آیا۔ آپ اُن سے مخاطب ہو کر بولے صَبْراً الَ يَاسِرٍ فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةَ 17- اے یاسر کے خاندان ! صبر سے کام لو۔ خدا نے تمہارے لئے جنت تیار کر چھوڑی ہے۔ اور یہ پیشگوئی تھوڑے ہی دنوں میں پوری ہو گئی کیونکہ یا سر مار کھاتے کھاتے مر گئے مگر اس پر بھی کفار کو صبر نہ آیا اور اُنہوں نے اُن کی بڑھیا بیوی سمیہ پر ظلم جاری رکھے ۔ چنانچہ ابو جہل نے ایک دن غصہ میں اُن کی ران پر زور سے نیزہ مارا جو ران کو چیرتا ہوا اُن کے پیٹ میں گھس گیا اور تڑپتے ہوئے اُنہوں نے جان دے دی 18۔ زنیرہ بھی ایک لونڈی تھیں اُن کو ابو جہل نے اتنا مارا کہ اُن کی آنکھیں ضائع لونڈی کو ہو گئیں 19۔ ابوفكيهه صفوان بن امیہ کے غلام تھے ۔ ان کو اُن کا مالک اور اُس کا خاندان گرم تپتی ہوئی زمین پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ دیتا یہاں تک کہ اُن کی زبان باہر نکل آتی 20 ۔ یہی حال باقی غلاموں کا بھی تھا۔ بیشک یہ ظلم انسانی طاقت سے بالا تھے مگر جن لوگوں پر یہ ظلم کئے جارہے تھے وہ ظاہر میں انسان تھے اور باطن میں فرشتے ۔ قرآن صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل اور کانوں پر نازل نہیں ہو رہا تھا خدا اُن لوگوں کے دلوں میں بھی بول رہا تھا اور کبھی کوئی مذہب قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ابتدائی ماننے والوں کے دلوں میں سے خدا کی آواز بلند نہ ہو۔ جب انسانوں نے اُن کو چھوڑ دیا ، جب رشتہ داروں دیا، نے اُن سے منہ پھیر لیا تو خدا تعالیٰ اُن کے دلوں میں کہتا تھا میں تمہارے ساتھ ہوں،