سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 384

لله صلى الله سيرة ابي عليه 369 جلد 7 غصہ آگیا ۔ وہ تھی لونڈی مگر پرانی تھی اور اپنا حق سمجھتی تھی ، دیکھ کر کہنے لگی بڑا اوپچی بنا پھرتا ہے تو اور کمان لگائی ہوئی ہے آخر یہ کس بات کے لئے ہے؟ آج میں نے دیکھا کہ سابات کے لئے تیرا بھتیجا باہر پتھر پر بیٹھا ہوا تھا میں دروازہ پر کھڑی تھی خدا کی قسم ! میں نے یہ سنا اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ اور پھر ابوجہل نے آکر اُس کو تھپڑ مارا۔ یہ فقرہ حمزہ نے سنا وہ حمزه جو روز قرآن سنتا تھا مگر اسلام لانے کی جرات نہیں کرتا تھا جب اُس کے سامنے ننگے طور پر یہ بات پیش کی گئی کہ ایک شخص عقیدہ پیش کرتا ہے اور ایک ظالم اٹھ کر اُسے مارتا ہے تو حمزہ سے برداشت نہ ہو سکا ۔ وہ اُسی وقت گھر سے نکلے خانہ کعبہ میں ابو جہل اور اُس کے ساتھی رؤسا بیٹھے ہوئے تھے اور مجلس میں گئیں لگ رہی تھیں۔ حمزہ نے پہنچتے ہی اپنی کمان اٹھا کر اُس کے منہ پر ماری اور کہا محمد تیرے آگے جواب نہیں دیتا اس لئے تو دلیر بنتا ہے۔ اب میں نے تیرے منہ پر کمان ماری ہے اور سارے مکہ والوں کے سامنے تیری ہتک کی ہے اٹھ ! اگر تیرے اندر طاقت ہے تو جواب دے۔ وہ امراء جو اُس کے ساتھ بیٹھے تھے کھڑے ہو گئے اور اُنہوں نے چاہا کہ بدلہ لیں لیکن حق کا رعب نے جانا کہ بدلہ لیں لیکر ہوتا ہے۔ ابو جہل نے سمجھا اس وقت مار لیا تو آدھا مکہ اس کی طرف سے کھڑا ہو جائے گا اس لئے اُس نے کہا آج مجھ سے ہی کچھ غلطی ہو گئی تھی میں نے بلا وجہ آج محمد کو مارا تھا اور اُس نے اپنے ساتھیوں کو ٹھنڈا کر دیا لیکن آگ سلگ چکی تھی ۔ حمزہ وہاں گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھا کرتے تھے اور عرض کیا ! یا رسول الله ! میں مسلمان ہونے کے لئے آیا ہوں اور اسلام لے آئے 1۔ یہ تھی حق کی مظلومیت ۔ مظلومیت خود اپنے اندر طاقت رکھتی ہے تم ظلم کرتے چلے جاؤ سعید فطرتیں ہمیشہ اس کے خلاف مقابلہ میں پروٹسٹ کریں گی ، ہمیشہ اس کے خلاف احتجاج کریں گی ۔“ 66 ( الفضل 21 مارچ 1962ء ) 1 : السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاول صفحه 339 ، 340 مطبوعہ دمشق 2005 ء