سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 385

صلى الله سيرة النبي علي 370 جلد 7 صلى الله عليم رسول کریم ﷺ کی انکساری 28 دسمبر 1951 ء کو جلسہ سالانہ ربوہ پر حضرت مصلح موعود نے ”سیر روحانی صلى الله علي کے موضوع پر چھٹے خطاب کے دوران رسول کریم ﷺ کی انکساری کی بابت فرمایا :۔ 66 د میں نے دیکھا کہ دنیوی بادشاہوں کے دیوان خاص میں جو امراء ہوتے ہیں ان میں باہم رقابتیں اور بغض اور کینے پائے جاتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس الہی دربار میں اگر کوئی بڑا ہے تو بڑے نے ۱۴ نے چھوٹے پر کیا حسد کرنا ہے وہ یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ کسی چھوٹے کی ہتک ہو جائے یا اس کی کسی رنگ میں تنقیص کی جائے ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جن کے مقابلہ میں موسی کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے، جن کے مقابلہ میں ابراہیم کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے، جن کے مقابلہ میں نوح کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے، ان موسی اور ابراہیم اور نوح سے کم درجہ رکھنے والوں اور موسی کے ماتحت نبیوں میں سے ایک یونس نبی ہیں کوئی یہودی کسی جھگڑے میں کہہ دیتا ہے کہ یونس بڑا آدمی تھا مسلمان آگے سے کہہ دیتا ہے محمد رسول اللہ کے مقابلہ میں یونس کی کیا حقیقت ہے ۔ اب بجائے اس کے کہ دربارِ خاص کا آدمی خوش ہو کہ میری عزت کی گئی ہے جب اس کو خبر پہنچتی ہے تو اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور وہ کہتا ہے لَا تُفَضِّلُونِي عَلَى يُونُسَ ابْنِ مَتَّى 1 يونس ابن متی پر مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ حالانکہ فضیلت ہے لیکن کسی درباری کی وہ ہتک برداشت نہیں کرتا وہ کہتا ہے چاہے وہ چھوٹا ہی سہی پر تم نے کیوں اس کو چھوٹا کہا ؟ تمہارا کام یہی ہے کہ اس کی عزت کرو