سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 383
سيرة النبي علي صلى الله 368 جلد 7 رسول کریم ﷺ کی مظلومیت اور حضرت حمزہ کا علم قبول اسلام حضرت مصلح موعود اپنے خطاب 27 دسمبر 1951 ء میں فرماتے ہیں :۔ ایک دفعہ خانہ کعبہ سے باہر ایک پتھر کی چٹان پر صفا میں آپ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ سوچ رہے تھے۔ چہرہ پر آپ نے ہاتھ رکھا ہوا تھا اور سہارا لے کر سوچ رہے تھے کہ ابو جہل نے دیکھا اور اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُسی طرح بیٹھے رہے۔ پھر اس کمبخت نے زور سے آپ کو تھپڑ مارا کہ ہمارے بزرگوں کی ہتک کرتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر صرف آنکھ اٹھائی اور کہا کہ آخر تم لوگ مجھے کیوں دکھ دیتے ہو اور کیوں میرے ساتھ دشمنی کرتے ہو؟ میرا سوائے اس کے کیا قصور ہے کہ میں کہتا ہوں کہ تمہارا خدا جو تمہیں پیدا کرنے والا ہے اُس کو مان لو ۔ ابو جہل اس فقرہ کو سن کر چلا گیا۔ پاس ہی حضرت حمزہ کا مکان تھا ۔ حمزہ اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ اُن کی ایک لونڈی اُس وقت دروازہ پر کھڑی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی ۔ غلام غلام ہی ہوتا ہے لیکن دیر تک رہنے کی وجہ سے وہ بھی خاندان کا جزو ہو جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر اُس کا دل برداشت نہ کر سکا اور وہ سارا دن کڑھتی رہی ۔ حمزہ اپنی عادت کے مطابق شکار کو گئے ہوئے تھے شام کے وقت ترکش گردن میں ڈالی ہوئی اور کمان پکڑی ہوئی بڑے اکڑتے ہوئے جیسے شکاری ہوتے ہیں غرور سے گھر میں داخل ہوئے ۔ اُن کو اس حالت میں دیکھتے ہی اس لونڈی کو